خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 450
خطبات طاہر جلد 16 450 خطبہ جمعہ 20 / جون 1997 ء ہے جس کے نتیجے میں اسے دکھ ضرور پہنچے گا۔پس وہ لطف جو کسی کے دکھ پر مبنی ہو یہ بدی ہے لیکن اس کے برعکس اس کو سمجھایا جا سکتا ہے کوئی چیز اس کو دی جاسکتی ہے کہ اپنی بہن کو یہ خوشی کا جس کو سرپرائز ( Surprise) کہتے ہیں یعنی خوشی میں ایک حیرت کا سماں پیدا ہو جاتا ہے اسے یہ چیز دے دو، چھپ کر اس کے بٹوے میں ڈال دو یا اس کے کمرے میں رکھ دو اور وہ تعجب کرے کہ میرے دل کی یہ چیز ، میری خواہش کس نے پوری کی۔اس میں بھی ایک خوشی ہے اور ان دونوں خوشیوں میں ایک فرق ہے پہلی خوشی کی صورت میں جو نقصان پہنچا کر لذت اٹھاتا ہے اس کی لذت دائی نہیں رہتی بلکہ اسی وقت اس کے ضمیر میں سے ایک کانٹا نکلتا ہے جو کچھ نہ کچھ ضرور چبھتا ہے اور یہ بات ان بچوں کو جن کو آپ بچہ سمجھ رہے ہیں سمجھانی ضروری ہے کیونکہ بچے بہت عقل والی چیز ہیں۔میرا بچوں سے یہ تجربہ ہے کہ جن کو لوگ بچے سمجھ کے نظر انداز کر رہے ہوتے ہیں وہ بعض دفعہ اپنے ماں باپ سے بھی زیادہ ذہین اور ہوشیار اور گہری باتوں کو سمجھنے والے ہوتے ہیں صرف صبر کی ضرورت ہے اور نیکی کے ساتھ قرآن کریم میں ہر جگہ صبر کا مضمون بیان ہوا ہے۔کوئی نصیحت کارفرما نہیں ہو سکتی جب تک صبر نہ ہو اور صبر کے ساتھ نصیحت کرتے چلے جانا ہی مسلمانوں کا شعار مقررفرمایا گیا ہے۔پس اس پہلو کو جو میں بیان کر رہا ہوں اہمیت دیں اور بچپن ہی سے بھائی اور بہن میں، بھائی اور بھائی میں، ماں باپ اور بچوں کے درمیان ایسے نیکی کے رشتے قائم کریں جن میں مزہ پیدا ہو اور جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے ایک انسان اپنے بھائی کے لئے ، اپنی بہن کے لئے جو بظاہر قربانی کرتا ہے اس قربانی کے نتیجے میں اس کی طرف سے مادی چیز، مادی قد را الگ ہو کر کسی دوسرے تک پہنچتی ہے۔اگر کوئی جھپٹ کر اپنے بھائی یا بہن کی کوئی مادی چیز ہمیٹریل (Material) چیز لے بھاگتا ہے تو دونوں صورتوں میں انتقال ہے مادے کا اور مادے کا انتقال ہے جو لذت پیدا کرتا ہے۔اب یہ لذت کا فلسفہ ہے جو سمجھانا ضروری ہے جو ہمیشہ ان بچوں کے کام آئے گا۔جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے لذت میں بہت سی چیزیں ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ مادہ ایک طرف سے منتقل ہو کر دوسری طرف جاتا ہے، حق ایک طرف سے منتقل ہو کے دوسری طرف جاتا ہے۔اگر آپ مادہ حاصل کرنے والے ہوں تو ایک لذت ہے۔اگر کسی کا حق چھیننے والے ہوں اس میں بھی ایک لذت ہے لیکن جب آپ اپنی مادی قدر کو کسی دوسرے کی طرف منتقل کرتے ہیں اس میں