خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 448
خطبات طاہر جلد 16 448 گھر میں پہنے نہیں دیا گیا اور جن کو سنبھالنے کے لئے کوئی ذہنی کوشش نہیں کی گئی۔خطبہ جمعہ 20 / جون 1997 ء اس لئے اب یہ دوسرا پہلو ہے جس کی طرف میں متوجہ کرنا چاہتا ہوں۔یہ کوششیں بھی بارہ سال سے پہلے پہلے کام کر جائیں گی ورنہ نہیں کریں گی یعنی بلوغت کا آغاز جس کو میں بارہ سال کہہ رہا ہوں اس میں بچے کے اپنے دل میں خصوصیت کے ساتھ ایسی جنسی خواہشات جنم لینے لگتی ہیں جن سے وہ مغلوب ہو جاتا ہے اور اگر ان امور میں پہلے ہی اس کی تربیت کی گئی ہو تو وہ ذہنی طور پر اس کے لئے تیار ہوگا اور اس تربیت میں ماں باپ کو اپنے بچوں کے ساتھ وقت لگانا ہوگا بجائے اس کے کہ سکولوں کے اوپر چھوڑ دیا جائے یا کالجوں پر چھوڑ دیا جائے۔میں نے یہ دیکھا ہے کہ جن ماں باپ نے بچوں پر اس لحاظ سے محنت کی ہو کہ ان کو نیکی اور بدی کی تمیز سکھائی گئی ہو، اس طریق پر سکھائی گئی ہو کہ وہ زندگی کا فلسفہ بن جائے وہ بچے اسے زندگی کے فلسفے کے طور پر قبول کریں۔اور یہ پہلو تربیت میں بہت ہی اہم ہے کہ تعلیم کے ساتھ تعلیم کا فلسفہ بتایا جائے کیونکہ قرآن کریم نے آنحضرت ﷺ کو ایک ایسے معلم کے طور پر پیش فرمایا ہے جو وَ يُعَلِّمُهُمُ الْكِتب وَالْحِكْمَةَ (البقره: 130) کہ وہ صرف تعلیم کتاب پر اکتفا نہیں کرتا وہ اس کی حکمت بھی سمجھاتا ہے۔پس جو خرابی میں نے دیکھی ہے اس میں ان دو چیزوں کے اندر جو فرق کیا جاتا ہے یہی فرق ہے جو آئندہ خرابیوں کا موجب بنتا ہے۔ماں باپ کہتے ہیں ہم نے ان کو تعلیم دی ان کو بچپن سے نمازیں پڑھنی سکھائیں اور قرآن کی تلاوت بھی یہ کیا کرتے تھے وغیرہ وغیرہ لیکن اس تعلیم کی حکمت نہیں بتائی گئی اور حکمت ایسی چیز ہے جو دل کو اس تعلیم کے ساتھ اس طرح جوڑ دیتی ہے کہ پھر آئندہ کبھی وہ الگ نہیں ہو سکتی۔مثلاً باہر کی دنیا میں جو ان کو دلچسپیاں دکھائی دیتی ہیں ان کی مثال ایسے جانوروں سے بھی دی جا سکتی ہے جو بظاہر بڑے خوبصورت ہیں مثلاً سانپ ہے۔بعض دفعہ اس کے بہت ہی پیارے رنگ ہوتے ہیں نظر کو بھاتا ہے۔اسی طرح بعض کاٹنے والے جانور ہیں جو بہت خوبصورت دکھائی دیتے ہیں۔ان کے متعلق اگر یہ سمجھایا جائے کہ ان کو جب تم ہاتھ لگاؤ گے، ان کی طرف مائل ہو گے تو لازماً یہ ڈسیں گے اور لازماً نقصان پہنچائیں گے اور اس بات کو اگر بچپن ہی سے دل میں بٹھا دیا جائے تو کوئی انسان جو اس حکمت کو سمجھ جائے وہ ان کی طرف ہاتھ بڑھانے کی جرات نہیں کرسکتا۔لیکن اگر یہ حکمت بچپن سے بتائی نہ جائے اور سمجھائی نہ جائے اور دل میں بٹھا نہ دی جائے تو پھر انسان