خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 447 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 447

خطبات طاہر جلد 16 447 خطبہ جمعہ 20 / جون 1997 ء آپ نے قرآن کے قانون کو سمجھا اور اپنی اُمت میں اسے جاری فرمایا۔یہی ایک پہلو آپ دیکھیں کہ جب بھی گفتگو آگے بڑھی وہ تمام ملنے والے اس بات پر یقینی طور پر مطمئن ہو کر گئے کہ ہمارے پر معاشرے کی غلطی ہے۔اس کی اصلاح کے بغیر ہم کسی تربیت کا دعویٰ نہیں کر سکتے کیونکہ ان کی بلوغت تک پہنچتے پہنچتے یعنی اٹھارہ سال یا اکیس سال تک اگر بدی کی سزا نہ دی جائے تو بچے کو بدی پر جرات پیدا ہو جاتی ہے اور یہ وہ عمر ہے جس میں جرات ایک دوام اختیار کر جاتی ہے، ایک ایسی عادت بن جاتی ہے کہ جسے پھر چھوڑ نا ممکن نہیں رہتا۔چنانچہ اکثر انگلستان میں بھی اور یورپ کی دوسری سائٹیوں میں بھی ایسے بد بچے بالغ بنا کر سوسائٹی میں پھینکے جاتے ہیں جو اپنی بدیوں پر پختہ ہو چکے ہوتے ہیں۔جسے ڈرگ اڈکشن (Drug Addiction) کی شروع سے عادت پڑ گئی ہو، جسے ڈرگ بیچ کر پیسے لینے کی عادت پڑ جائے ، کیسے ممکن ہے کہ وہ اٹھارہ یا اکیس سال کے بعد قانون کے ڈر سے ان عادات کو چھوڑ دے۔تو معمولی سی عقل کی بات ہے اسے استعمال کر کے اگر دیکھا جائے ، جیسا کہ یہ لوگ نہیں دیکھ رہے بدقسمتی سے، تو انسان لازماً آنحضرت ﷺ کی تعلیم کی طرف لوٹے گا۔پس تربیت کا آغاز شروع سے ہونا چاہئے اور بارہ سال کی عمر تک پہنچ کر اس تربیت کو اتنا مکمل ہو جانا چاہئے کہ اس کے بعد بچہ اپنے سیاہ و سفید کا مالک ہو اور پھر اگر وہ سوسائٹی کا جرم کرے تو سوسائٹی اس کو سزا دے۔اگر خدا کا جرم کرے تو خدا سزا دے گا ماں باپ کا کام نہیں کہ اس کو سزا دیں۔یہاں پہنچ کر معاشرے اور احمدی ماحول کے جو طرز عمل میں ایک فرق ہے جو میں آپ کے سامنے نمایاں طور پر رکھنا چاہتا ہوں۔بہت سے بچے اور بچیاں جو امریکہ کے ماحول میں پیدا ہوئے ان کے متعلق ماں باپ بہت سے تو نہیں کہنا چاہئے مگر کئی ایسے ہیں کہ ان کے ماں باپ بہت تکلیف محسوس کرتے ہیں روتے ہیں، گریہ وزاری کرتے ہیں، مجھے خط لکھتے ہیں کہ ہماری جوان بچیوں کو کیا ہو گیا۔بہت اچھی اور نیک اور مخلص تھیں بے حد دین سے تعلق تھا نمازیں بھی پڑھتی تھیں مگر اچانک جب کا لجوں میں گئی ہیں تو ان کی کایا پلٹ گئی۔میں انہیں سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں کہ اچانک کچھ نہیں ہوا کرتا۔انہوں نے اپنی آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ وہ بچیاں جو دل سے نیکی پر قائم ہوچکی ہوں اچانک معاشرے میں جاکر ان کی کیفیت بدل جائے۔لازماً دل میں کچھ دبی ہوئی خواہشات رہی ہیں جن کو