خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 446
خطبات طاہر جلد 16 446 خطبہ جمعہ 20 / جون 1997 ء حرکت کریں، نمازیں نہ پڑھیں تو بعض دفعہ ڈانٹنا اور سمجھانا یہ چیزیں بارہ سال کی عمر تک جائز ہیں۔اور بارہ سال کے بعد آنحضرت یہ فرماتے ہیں کہ پھر اب تمہارا ان پر کوئی سختی کا حق باقی نہیں رہا جو کچھ تم نے کرنا تھا وہ وقت گزر گیا ہے۔اب دیکھیں اس پہلو سے مغربی تہذیب اور اسلام میں کتنا نمایاں فرق ہے۔مغربی تہذیب میں مختلف سال مقرر کر دیئے جاتے ہیں مثلاً اٹھارہ سال، اکیس سال یا سولہ سال اور ان سالوں کا بعض جرائم سے تعلق قائم کیا جاتا ہے۔آج کل جو ترقی یافتہ ممالک ہیں ان میں یہ معین کیا جا رہا ہے کہ سولہ سال کی عمر تک کسی لڑکے کو کس جرم کی کتنی سزاملنی چاہئے ، اٹھارہ سال تک کس جرم کی کتنی سزاملنی چاہئے اور اکیس سال کی عمر میں جا کر پھر وہ کلیہ ہر سزا کا ذمہ دار قرار دیا جائے گا۔اسلام نے بارہ سال اس لئے مقرر کئے ہیں کہ یہ بلوغت کا آغاز ہے اور بارہ سال میں بچہ اتنی ذہنی پختگی اختیار کر جاتا ہے کہ اپنے روز مرہ کے معاملات میں خود فیصلہ کر سکے۔پس اسلام کی بلوغت کا آغاز دنیا والوں کی بلوغت سے بہت پہلے ہوتا ہے اور یہ بہت ضروری بات ہے کیونکہ اگر بارہ سال تک بچہ اپنے سیاہ وسفید کو دیکھ نہ سکتا ہو تو پھر اٹھارہ سال تک بھی نہیں دیکھے گا بلکہ اپنی بد عادتوں میں اتنا پختہ ہو جائے گا جب وہ اٹھارہ سال کی عمر سے گزر کر سوسائٹی میں جاتا ہے تو پھر اس میں وہ بدی ایک مستقل دائمی شکل اختیار کر جاتی ہے۔یہ وہ پہلو ہے جس کے متعلق میں آپ کو بھی متوجہ کر رہا ہوں اور انگلستان میں اکثر جوان مسائل میں دلچسپی لینے والے سوشل راہنما یا سیاسی راہنما ہیں وہ جب مجھ سے گفتگو کے لئے آتے ہیں تو میں ان کو سمجھاتا ہوں کہ تم بنیادی طور پر ایک غلطی کر رہے ہو۔مثلاً بعض چھوٹے بچوں کو وہاں قتل پر آمادہ کرنے والے گروہ بن چکے ہیں اور ان سے وہ قتل کرواتے ہیں اور جانتے ہیں کہ ان کو سزا نہیں ملے گی۔اسی طرح چوری ڈاکہ سکولوں میں ڈرگ اڈکشن (Drug Addiction) کے لئے اس قسم کے گروہ تیار کئے جاتے ہیں اور یہ محض غلط قانون سے ناجائز فائدہ اٹھانا ہے۔جب تک قوانین درست نہ ہوں اس وقت تک انسان کی صحیح تربیت اور معاشرے کی صحیح اصلاح ممکن نہیں ہے۔مگر ہمیں جس نے قانون دیا یعنی اللہ تعالیٰ ، اس نے ایک ایسا قانون دان عطا صلى الله فرمایا جس سے بڑھ کر کوئی قانون دان دنیا میں کبھی پیدا نہیں ہوا یعنی حضرت اقدس محمد مصطفی ہے۔اورال