خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 39
خطبات طاہر جلد 16 39 خطبہ جمعہ 17 /جنوری 1997ء تعالیٰ نے ایک مقام بنایا ہے اور اس کا تعلق اس قوم کے انبیاء اور بزرگوں سے ہے لیکن سب کے لئے اجتماعی طور پر خانہ کعبہ کو چنا گیا اور اس کے لئے حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کا نام بھی زندہ رکھا گیا۔مگر اصل خانہ کعبہ کا مقصد تو حید باری تعالیٰ کا وہ قیام تھا جو آنحضرت علی کے ذریعے وجود میں آنی تھی۔اسی لئے اسلام سے پہلے خانہ کعبہ کی تعمیر کی پہلی اینٹ رکھی گئی مقصد یہی تھا کہ یہاں تمام بنی نوع انسان جمع ہوں گے۔پس یہ مقصد اپنے تمام کو پہنچا ہے، اپنے کمال کو پہنچا ہے آنحضرت علﷺ کی بعثت کے ساتھ۔تو عبادت کا جو مفہوم ہے اس میں حج ایک اہم حصہ ہے لیکن یہ زندگی میں ایک دفعہ کی عبادت ہے۔اگر بار بار کی توفیق ملے تو زائد ہے ورنہ ایک دفعہ کی عبادت اگر ہو جائے تو یہ بھی بہت بڑی چیز ہے۔دوسری عبادت جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے نماز ہے جو ہر مذہب میں موجود ہے مختلف رنگوں میں، مختلف شکلوں میں اور تیسری روزے ہیں یعنی جیسا کہ اس مہینے میں ہم گزر رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے روزوں کو تمام دوسرے مذاہب میں جو اسلام سے پہلے تھے کسی نہ کسی شکل میں ضرور فرض فرما دیا۔پس رمضان میں ان تین عبادت کی قسموں کو ملحوظ رکھتے ہوئے خدا تعالیٰ کے قرب کی کوشش کرنی چاہئے۔حج تو ابھی بعد میں آئے گا مگر حج کے مقاصد ضرور رمضان میں پیش نظر رکھے جاسکتے ہیں اور خانہ کعبہ کو تمام دنیا کا مرجع بنانا اس کے لئے اس رمضان میں بھی دعائیں ہوسکتی ہیں۔پس اس پہلو سے ہم حج کے مقاصد بھی کسی حد تک پالیں گے اگر دعاؤں کے ذریعے حج کے اعلیٰ مقاصد کو پیش نظر رکھتے ہوئے بنی نوع انسان کو ان کی طرف مائل کرنے کے لئے التجائیں کریں اور یہ بنی نوع انسان کا میلان یعنی ان کی توجہ اس طرف ہونا دعاؤں کے سوا ممکن نہیں ہے۔پس اس پہلو سے رمضان میں حج کے مقاصد کے لئے دعائیں کرنا بھی داخل ہو جائے گا کیونکہ یہ عبادت کا ایک اہم حصہ ہے۔یہ تین پہلو عبادت کے ہیں جن کو محوظ رکھتے ہوئے اپنی اگلی نسلوں کی تربیت کی کوشش کریں۔ان کو بار بار یہ بتائیں کہ عبادت کے بغیر تمہاری زندگی بالکل بے معنی اور بے حقیقت بلکہ باطل ہے۔ایک ایسی چیز ہے جو خدا تعالیٰ کے ہاں کسی شمار میں نہیں آئے گی اس لئے جانوروں کی طرح یہیں مرکر مٹی ہو جاؤ گے۔مگر فرق صرف یہ ہے کہ جانور تو مرکز نجات پا جاتے ہیں تم مرنے کے بعد جزا سزا کے میدان میں حاضر کئے جاؤ گے۔پس یہ شعور ہے جسے ہمیں اگلی نسلوں میں پیدا کرنا ہے