خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 38 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 38

خطبات طاہر جلد 16 38 خطبہ جمعہ 17 / جنوری 1997ء وقت خاص طور پر انگلی نسل کی تربیت پر ہے۔اس پہلو سے میں سادہ لفظوں میں رمضان کی بعض برکتیں حاصل کرنے کے آپ کو طریق سمجھا تا ہوں لیکن جو آیات تلاوت کی ہیں پہلے ان کا ترجمہ اورمختصر تفسیر پیش کروں گا۔فرمایا يَا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ کہ اے وہ لوگو! جو ایمان لائے ہو تم پر بھی رمضان فرض کیا گیا جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں پر بھی فرض کیا گیا تھا اور یہ جو مضمون ہے پہلے لوگوں پر فرض کیا گیا تھا یہ عبادت کی تین قسموں پر مشترک ہے۔ایک نماز، ایک حج اور ایک زکوۃ۔یہ تین وہ عبادت کی بنیادی قسمیں ہیں جن کا تعلق ہر مذہب سے ہے اور قدیم سے اسی طرح چلا آیا ہے۔ہر مذہب کے لئے کوئی نہ کوئی جگہ ایسی مقرر ہے جہاں وہ اکٹھے ہوں اور کم سے کم زندگی میں ایک دفعہ اکٹھے ہو کر وہ خدا تعالیٰ کا ذکر بلند کریں اور جگہوں کا انتخاب اس پہلو سے کیا گیا ہے کہ وہاں خدا کا کوئی بہت نیک اور بزرگ بندہ اللہ کی عبادت کے لئے اپنے آپ کو وقف کر چکا تھا اور اسی فضا میں وہ سانس لیتا رہا، وہیں اس نے خدا کے لئے اپنی دین کو خالص کیا، اپنی تمام تر تو جہات کو خدا کی طرف پھیر دیا تو اس کی یادیں خدا کی یادوں میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔اور خدا کو یاد کرنے کا بہترین ذریعہ اس مقام پر ذہن میں آتا ہے جس مقام پر ایک خدا کا خالص بندہ اس کی عبادت کرتا رہا۔تو اسی لئے مقامِ اِبْراهِمَ مُصَلَّی کی جو نصیحت ہے۔وَاتَّخِذُوا مِنْ مَّقَامِ إِبْرهِمَ مُصَلَّى (البقرة : 126) کہ تم بیت اللہ کے حج کے لئے جاؤ تو یا درکھنا وَ اتَّخِذُوا مِنْ مَّقَامِ إِبْرهِمَ مُصَلَّی کہ اپنی عبادتیں ویسی بنانا جیسی ابراہیم نے بنائی تھیں اور اس مقام کو حاصل کرنے کی کوشش کرنا جو ابراہیم کا مقام تھا۔جس طرح اس نے اپنے آپ کو ان عبادتوں کے لئے وقف کیا۔پس حج کا تعلق ایسے خدا کے نیک بندوں سے ہے جنہوں نے اپنے دین کو خدا کے لئے خالص رکھا اور کسی ایک جگہ وہ یا تو دھونی مار کے بیٹھ رہے یا بار بار وہاں آتے رہے اور اس جگہ کے ساتھ خدا کی عبادت کا تعلق مستقلاً ایک ایسے رشتے میں تبدیل ہو گیا جو توڑا نہیں جاسکتا۔یعنی ہر قوم کے لئے وہ جگہ اور ذکر الہی گویا ایک ہی چیز کے دو نام بن گئے۔جب یہ مقام کسی مقام کو نصیب ہو تو اسے پھر وہ حج کے لئے مخصوص کیا جاتا ہے اور ہر قوم کے لئے الگ الگ خدا