خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 435
خطبات طاہر جلد 16 435 خطبہ جمعہ 13 / جون 1997 ء سے خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ آپ دیکھیں گے کہ ان مریضوں کو احمدیت میں ضرور دلچسپی پیدا ہوگی۔اب خزانے کی بات میں کتابوں کی صورت میں کر رہا تھا اس طرف واپس آتا ہوں۔ہر جگہ کی کتابیں الگ الگ ہو سکتی ہیں، ہر جگہ کی وڈیوکیسٹس الگ الگ ہوسکتی ہیں کیونکہ ماحول الگ الگ ہے۔اس لئے بہت بڑی لائبریری کی ضرورت نہیں مگر یہ لازم ہے کہ کچھ لوگ واقف ہوں اور پھر وہ اگر بانٹیں چیزیں تو دو طرح سے ان کا حساب رکھیں۔ایک یہ کہ جن کو جو چیزیں بانٹی جارہی ہیں وہ واپس آئیں۔ان میں مہنگی چیزیں ہیں بہت بعض دفعہ، یعنی بعض دفعہ ہوتی ہیں بہت مہنگی چیزیں، بعض دفعہ سستی بھی ہیں مگر عام طور پر مثلاً جماعت میں یہ توفیق غالباً ہر جگہ نہیں ہوگی کہ Volume Five قرآن کریم مفت تقسیم کریں۔One Volume تو کسی حد تک یعنی ایک جلد میں جو حضرت ملک غلام فرید صاحب والا ترجمہ اور تفسیر ہے، تغییر تو حضرت مصلح موعود ہی تھی مگر انگریزی میں انہوں نے ڈھالا ہے، یہ اگر مفت دے بھی دیا جائے تو اس کا بھی مقامی طور پر لوگ زیادہ بوجھ نہیں اٹھا سکتے۔تو لائبریریوں میں ایسی چیزیں جنہوں نے گھومنا ہے اور زیادہ گہری اور علمی کتابیں ہیں ان کا واپسی کا بھی تو انتظام ہونا چاہئے۔اس کے لئے یہ احتیاط کر لینی چاہئے کہ جس دوست کی معرفت کوئی کتاب جارہی ہے وہ ذاتی طور پر حاصل کرے اور ضامن ہو اس بات کا کہ اگر اتنے عرصے میں واپس نہ آئی تو وہ ذمہ دار ہے۔اگر ایسا معین انتظام آپ نے نہ کیا تو ان کے ضائع ہونے کا خطرہ ہے اور کچھ یہ ترکیب بھی کام آتی ہے کہ ایسی کتابیں زیادہ رکھیں جو کبھی کبھی ضائع تو نہیں ہوں گی مگر ضائع ہو بھی سکتی ہیں۔ضائع نہیں ہوں گی ان معنوں میں کہ جو پڑھے گا اس کو فائدہ پہنچے گا مگر ضائع ہو بھی سکتی ہیں ان معنوں میں کہ بعض لوگوں کے متعلق علم ہوا ہے کہ جماعت کی قیمتی کتا بیں ارادہ شرارت کے طور پر لے لے کر پھاڑ پھاڑ کے پھینکتے ہیں اور بعض لائبریریوں نے رپورٹ کی ہے کہ جب بھی تم نے قرآن کریم رکھوایا ہے کوئی لے کے بھاگ گیا ہے اور واپس نہیں آیا۔تو اس لئے میں عرض کر رہا ہوں کہ آنکھیں کھول کر ان سب امور کا جائزہ لینا چاہئے اور ایسی کتابیں جن کا ضائع ہونے کا خطرہ ہے اول تو معلوم کریں کون سی جہت ہے۔وہ ہے کون سا رستہ جس کے ذریعے یہ ضائع ہوتی ہیں اور جو مہنگی ہیں ان کو جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے ایک سے زائد رکھیں۔کوئی ایک وقت میں ایک لے جائے تو پھر دوسرا آنے والا جب اسی کا مطالبہ کرے تو اس کو بھی کچھ ملنا