خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 432 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 432

خطبات طاہر جلد 16 432 خطبہ جمعہ 13 / جون 1997 ء جانے ہیں اور بانٹنے والا ہاتھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ہاتھ ہے، اس میں کوئی شک نہیں۔آپ ان کی نعمت کو سمجھیں ، ان کی نعمت کی حیثیت کو سمجھیں اور جہاں جہاں لائبریری قائم کر رہے ہیں جیسا کہ میں بیان کر رہا ہوں وہاں آپ کی Experts کی ٹیم تیار ہونی چاہئے جن کو پتا ہو کہ اپنے ماحول کو میں نے کیا بتانا ہے۔پھر جب آپ گرد و پیش نظر ڈال کے لوگوں کے مسائل دیکھیں گے تو آپ کو سمجھ آجائے گی کہ اس کا مسئلہ فلاں کتاب میں ہے، وہاں پہنچیں اور بتائیں کہ تمہارا مسئلہ اس میں ہے۔اور اس ضمن میں ہومیو پیتھی جو بظاہر ایک بے تعلق مضمون ہے لیکن وہ بھی علم شفا ہے اس کا بھی گہرا تعلق ہے۔چنانچہ انڈونیشیا سے ہمارے عبدالقیوم صاحب جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک بہت ہی مخلص اولین احمدی کی اولاد ہیں۔عبدالباسط جو ہمارے مبلغ ہیں ان کے بھائی، وہ دنیا میں بڑے عہدے پر فائز ہیں ان کو جنون ہو گیا ہے تبلیغ کا اور ہومیو پیتھی کے متعلق وہ مجھے بتارہے تھے کہ میں تو حیران ہوں کہ اتنا بڑا تبلیغ کا ذریعہ ہم اس سے غافل بیٹھے ہوئے تھے۔وہ کہتے ہیں ہمارے ایک مبلغ تو کہتے ہیں کہ اب مجھے دوسرے کاموں کا وقت ہی نہیں ملتا۔وہ کہتے ہیں دن رات مریض آرہے ہیں اور وہ آ کے مجھے سب کہتے ہیں کہ یہ کرو اور وہ کرو۔اسی تعلق میں پھر جماعت احمدیہ سے تعارف ہو رہا ہے اور خدا کے فضل سے وہ لوگ جو پہلے احمدیت کا نام سننے کے لئے تیار نہیں تھے اب کثرت سے احمدیت کی باتیں کرنے لگے ہیں اور اللہ تعالی مدد بھی ایسی کرتا ہے کہ آدمی حیران رہ جاتا ہے۔مجھے انہوں نے ، قیوم صاحب نے کل اپنے بعض واقعات سنائے میں حیران رہ گیا کہ اس دوائی سے تو فائدہ ہونا ہی نہیں چاہئے تھا۔وہ بتا رہے تھے فلاں آدمی آیا اس نے کہا یہ مجھے تکلیف ہے میں نے کہا فوراً سلفر 200 اور گولی کی طرح یعنی گولی سے مراد وہ گولی نہیں ، گولی کی طرح یہ کہہ سکتے ہیں کہ بیماری کو وہ لگ گئی۔کہتے ہیں آئے، چند دن کے بعد کہا بالکل ٹھیک ٹھاک ہوں۔ایک مریض کی بات بتارہے تھے کہ ایک ڈاکٹر صاحب کے پاس ایک مریض آیا جس کو جلدی بیماری تھی جو بہت ہی خطرناک سنگین اور ہمیشہ کے لئے چھٹ جانے والی بیماری ہے اور اس مریض نے جو جلدی مریض تھا اس نے اس سے باتیں کیں تو آخر ان کو تسلیم کرنا پڑا کہ بات یہ ہے میں تمہارا علاج تو کروں گا لیکن بیماری نہیں چھوڑے گی۔اس نے کہا بیماری مجھے نہیں چھوڑے گی تو میں تمہیں چھوڑ دیتا ہوں، مجھے کیا ضرورت ہے تمہارے پاس آنے کی۔وہ احمدی مبلغ ہے اس کے پاس جاؤں گا۔چنانچہ اس مبلغ کے