خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 425
خطبات طاہر جلد 16 425 خطبہ جمعہ 13 / جون 1997 ء اور خزانے وہی ہیں ، بانٹنے والا ہاتھ وہی ہے ،مگر ہمارے ذریعے اب اس کام کو خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ آگے بڑھایا جائے گا اور ساری دنیا میں پھیلایا جائے گا۔تو پہلی بات تو یہ ضروری ہے کہ اس لائبریری کے متعلق پتا تو چلے کہ ہے کیا کیا۔پس جب آپ کیسٹس اکٹھی کریں گے جب آپ آڈیو وڈیو اور کتب ، رسائل اکٹھے کریں گے تو جوا کٹھے کرنے والے ہیں ان کا فرض ہے کہ پڑھیں خود اور دیکھیں اور سنیں اور اپنے ذہن میں ان باتوں کی یادداشت محفوظ کریں اور جو کچھ ان کے متعلق تعارف لائبریریوں میں ہونا چاہئے وہ ان کے ان تاثرات کا تعارف ہونا چاہئے جو پڑھنے ، دیکھنے اور سننے کے بعد ان کے دلوں پر جاری ہوتے ہیں۔ورنہ ہمارے یہاں بہت سے محنت کرنے والے خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ ایسے ہیں اور باہر کی دنیا میں بھی ہیں جنہوں نے تمام آڈیو وڈیو ، سوال جواب ، مجالس ، یہ وہ جب سے میں یہاں آیا ہوں اس سے لے کر اب تک سب کا ریکارڈ مکمل کر لیا ہے اور صرف ایک لفظ ذہن میں رکھیں اس کے حوالے سے آپ کو پتا چل جائے گا کس کیسٹ میں مضمون ہے مگر یہ لائبریری کا سسٹم ہے لیکن اس سے آپ کو یہ نہیں پتا چلے گا کہ فلاں چیز فلاں قسم کے لوگوں کے لئے غیر معمولی اثر کرنے والی ہے، فلاں چیز فلاں قسم کے سوالات کے جواب میں زیادہ اثر رکھنے والی ہے۔یہ علم جب تک کوئی پڑھ کر ان سے نہ گزرے کسی انسان کو حاصل نہیں ہو سکتا۔چنانچہ مجھے یاد ہے کہ جب ہم لائبریری میں جایا کرتے تھے یہاں انگلستان ہی میں SOS میں جب میں طالبعلم تھا تو بعض مضامین کے متعلق محض ریکارڈ دیکھنے سے نہیں پتا چلا کرتا تھا تو لائبریرین کے پاس جانا پڑتا تھا اور اس زمانے میں یہ رواج تھا، غالباً اب بھی ہوگا کہ جو لائبریرین تھے وہ اس لائبریری کی کتابوں کا بہت مطالعہ کیا کرتے تھے بلکہ بعض تو حیرت ہوتی تھی کہ کس طرح ہر کتاب پر نظر رکھ رہے ہیں۔مگر اب یہ کلیریکل نظام زیادہ جاری ہو گیا ہے۔مگر وہ علمی نظام کہ لائبریرین کو پتا ہو کہ فلاں مضمون میں فلاں نے کیا کچھ کہا ہے اور کون کیا مؤ ثر مواد آپ کو کس کتاب میں ملے گا یہ اس زمانے میں تو ایک عام دستور تھا۔چنانچہ جب لائبریرین سے جا کے کہتے تھے کہ ہمیں کنفیوشس ازم کے متعلق فلاں مضمون چاہئے تو وہ بتاتا تھا کہ ہاں فکر نہ کریں آپ فلاں جگہ جائیں وہاں ان Authors کی کتابیں ہیں۔ان میں سے حق میں لکھنے والے یہ ہیں، مخالف لکھنے والے یہ ہیں، تشریحات کرنے والے یہ ہیں اور ان کتابوں کا تفصیل سے تو نہیں مگر