خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 424 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 424

خطبات طاہر جلد 16 424 خطبہ جمعہ 13 / جون 1997 ء اور یہ حدیث جہاں تک میرا ایمان ہے اسی آیت سے تعلق رکھتی ہے۔وَإِذَا أَنْعَمْنَا عَلَى الْإِنْسَانِ أَعْرَضَ وَنَا بِجَانِبِهِ وَإِذَا مَسَّهُ الشَّرُّكَانَ يَوْسًا (بنی ارائیل: 84) کہ جب بھی ہم انعام تقسیم کرتے ہیں تو لوگوں کا کیا حال ہے کہ وہ پیٹھ پھیر کر چلے جاتے ہیں اور اس سے بے اعتنائی کرتے ہیں۔تو ایک ہی خزانہ ہے جس کی طرف پیٹھ پھیری جاتی ہے جس سے بے اعتنائی کی جاتی ہے وہ اللہ کا انعام ہے جو نبوت کی صورت میں نازل ہوتا ہے اور روحانی انعامات کی صورت میں جاری کیا جاتا ہے۔پس وہ علماء جو یہ سمجھتے ہیں کہ مہدی آئے گا اور دنیاوی خزانے بانٹے گا، بڑی بے وقوفی میں مبتلا ہیں۔کبھی خدا کا کوئی بندہ دنیاوی خزانے بانٹنے نہیں آیا بلکہ جب بھی آیا ان کے روپے پیسے کو خدا کی راہ میں خرچ کرنے کی تلقین کرتا ہوا آیا۔جو امیر تھے بظاہر وہ غریب ہو گئے مگر ان کے دل ان روحانی خزانوں سے بھر گئے جن کا ذکر قرآن کریم کی اس آیت میں ملتا ہے اور جس کے متعلق حضرت اقدس محمد رسول اللہ اللہ نے پیشگوئی فرمائی تھی اور ان معنوں میں یہ آیت آئندہ کی خبر دینے والی ہے اذا کا مطلب ایک تو عمومی استمرار کے معنوں میں ہوا کرتا ہے یعنی جب بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے خزانے بانٹے جاتے ہیں تو لینے والے پیٹھ پھیر کر چلے جاتے ہیں۔دوسرا مستقبل کے متعلق بھی بعینہ یہی طرز بیان ہو گا لفظ اذا کا معنی یہ ہوگا کہ آئندہ ایسا ہوگا ، جب بھی ہوگا کہ خدا کی طرف سے خزانے بانٹے جائیں گے۔اَعْرَضَ وَنَا بِجَانِبِہ تو انسان جس کی خاطر یہ بانٹے جارہے ہوں گے وہ اعراض کرے گا، منہ پھیر لے گا اور ایک پہلو میں ہٹ جائے گا کہ مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے لیکن اس کے نتیجے میں اسے ضرور گزند پہنچے گا، ضرور تکلیف ہوگی۔وَ اِذَا مَسَّهُ الشَّرُّكَانَ يَوْسًا وہ خزانے لینے سے انکار کرے گا اور پھر جب اس کو شر پہنچے گا تو وہ بہت مایوس ہو جائے گا۔وہ کہے گا اب تو ہمارے جینے کے کوئی سامان دکھائی نہیں دیتے، ہر طرف سے ہلاکت نے گھیر لیا ہے۔تو جہاں تک خزانوں کے اکٹھا کرنے کا تعلق ہے، ان کی تقسیم کا تعلق ہے اس سلسلے میں اب چند باتیں آپ کے سامنے رکھتا ہوں جن کا تعلق اسی آیت کریمہ سے ہے اور حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کی پیشگوئی سے ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعے آج اس زمانے میں بڑی شان کے ساتھ پوری ہو رہی ہے، اس شان کے ساتھ کہ اس سے پہلے اس طرح یہ پوری ہوتی کبھی دکھائی نہیں دی تھی