خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 423 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 423

خطبات طاہر جلد 16 423 داعیات کو یہ کہنے کا موقع نہیں ملے گا کہ کہاں جائیں، کیسے کام کریں۔خطبہ جمعہ 13 / جون 1997 ء چنانچہ یہ وہ اہم فریضہ ہے جس کے متعلق چند اور باتیں میں آپ سے کہنی چاہتا ہوں اور کے بعد پھر کچھ اور باتیں ، جب تک خطبے کا وقت اجازت دے گا۔یہ جو بارود خانہ بنانا ہے یہ ایک کام ہے اور بارودخانے کا تفصیلی تعارف کروانا ایک دوسرا کام ہے۔عام طور پر لائبریریاں بنادی جاتی ہیں مگر سوائے اس اتفاقی جانے والے کے جو کبھی لائبریری میں جا کر کتا بیں الٹتا پلٹتا ہے دیکھتا ہے کہ کیا ہے، عام طور پر لوگوں کو پتا نہیں ہوتا کہ ان لائبریریوں میں کیا خزانے مدفون ہیں۔چنانچہ آپ تجربتہ اپنے علاقے کی کسی لائبریری میں گھس کے دیکھیں اور وہ جو ان کے رجسٹر پڑے ہوئے ہیں ان کو دیکھیں یا کارڈز کا مطالعہ کریں یا گیلری میں پھریں اور کتابوں کے چہرے دیکھیں، اس وقت آپ کو پتا چلے گا کہ میں کیا کہ رہا ہوں۔آپ یہ سمجھیں گے کہ ہم نے تو اپنی عمر ضائع کر دی، بڑے مزے کی باتیں تھیں، بہت سے خزانے مدفون تھے جن کی طرف ہماری کبھی نگاہ گئی ہی نہیں۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق آنحضرت مہ نے جو پیشگوئی فرمائی تھی اس کا یہی مطلب تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس پیشگوئی کے پورا ہونے کا ذکر یوں فرماتے ہیں: وہ خزائن جو ہزاروں سال سے مدفون تھے اب میں دیتا ہوں اگر کوئی ملے امیدوار (در مشین اردو : 147) کہ یہ خزائن تو تھے ہی، پہلے بھی تھے یعنی خدا کی باتیں اور خدا کے کلام کی تشریحات ، یہ علي صلى الله باتیں تو انبیاء کے زمانے سے ہمیشہ سے وہی چلی آرہی ہیں لیکن جیسا کہ حضرت اقدس محمد مصطفی میں نے پیشگوئی فرمائی تھی کہ آنے والا مہدی خزانے بانٹے گا اور اس کثرت سے بانٹے گا کہ لینے والے کہیں گے بس بہت ہو گیا، ہمارے گھر بھر گئے ، اب مجھے ان خزانوں کی ضرورت نہیں رہی تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرما رہے ہیں کہ یہ پیشگوئی میری ذات میں پوری ہوئی ہے، یعنی مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی ذات میں ، کہ وہ خزائن جو ہزاروں سال سے مدفون تھے اب میں انہیں بانٹ رہا ہوں اور تقسیم کر رہا ہوں۔پس اے جماعت احمدیہ تم ہو وہ جس نے یہ خزانے بانٹنے ہیں۔ان خزانوں کو بانٹنے سے پہلے لوگوں کو علم تو ہونا چاہئے کہ خزانے ہیں کیا۔ورنہ قرآن کریم نے انہی خزانوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے