خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 416
خطبات طاہر جلد 16 416 خطبہ جمعہ 6 جون 1997 ء اللہ کی شان دیکھیں کس تفصیل کے ساتھ سارے نظام بنائے ہیں۔تب فرمایا تھ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ پھر یہ اس کا عرش تھا ، یہ اس کی کائنات تھی وہی اس کا بادشاہ تھا وہ اس کائنات کے تخت پر بیٹھا۔مراد یہ نہیں کہ نکما بیٹھا نعوذ باللہ۔مراد یہ ہے کہ نظام مقرر ہو گیا اب ہر چیز کے لئے ایک صورت ہے حل ہونے کی۔ایک قاعدہ ہے جس کی رو سے وہ معاملہ حل کیا جائے گا اور آگے بڑھایا جائے گا اور اس کے لئے بے انتہا سوچ اور تدبر کی ضرورت ہے۔ایسے تدبر کی ضرورت تھی کہ آپ چھوٹی سی چیز پر بھی غور کریں تو واقعہ دماغ بھنا جاتا ہے یہ ہو کیسے سکتا ہے مگر ہوا ہے اور پھر جب ہو گیا تو پھر کائنات کا خدا خود مستحکم ہو گیا اور سارا نظام یوں چل رہا ہے ہمیں آواز ہی کوئی نہیں آ رہی ، چپ چاپ آپ جتنے سانس لے رہے ہیں بیٹھے جس کو دمہ ہوگا صرف اس کی آواز آئے گی باقیوں کوتو پتا بھی نہیں لگ رہا کیا ہورہا ہے اور ہر سانس کے ساتھ جو آگے نظام وابستہ ہیں اگر میں کھولوں تو آپ حیران رہ جائیں۔ہر سانس کے ساتھ جو آپ آکسیجن لے رہے ہیں اس آکسیجن کے، خطروں سے خدا تعالیٰ نے آپ کو کیسے بچایا ہوا ہے کیونکہ یہی آکسیجن زندگی کی دشمن ہے اور کس حفاظت کے ساتھ اس کو باقاعدہ جس طرح پہرے دار مقرر ہوتے ہیں اس کو وہاں پہنچایا جا رہا ہے جہاں اس کی ضرورت ہے اور وہاں اس کے لئے خلاء مقرر ہیں وہاں جائے گی اپنا کام کرے گی اور پھر جب کاربن ڈائی آکسائیڈ میں بدلے گی تو اس کی واپسی کا انتظام کیا ہوا ہے اللہ تعالیٰ نے۔ایک سانس آپ نے لیا، پھیپھڑے کو بھرا اور خارج کر دیا۔آپ نے کہا چلو جی چھٹی ہوئی بس اتنی سی بات تھی۔اتنی سی بات نہیں ہے۔صرف سانس کے نظام کو جاری کرنا اور خون کے ہر ذرے تک اس کا فائدہ پہنچانا اور اس کی Waste Product کو واپس کرنا ایک اتنا بڑا کام ہے کہ اس کا اگر آپ مطالعہ کریں تو آپ کی عقلیں دنگ رہ جائیں گی اور یہ انسانی جسم کا جو نظام ہے اس کا کروڑواں حصہ بھی نہیں ہے۔بے شمار اور نظام جاری ہیں اور ساری کائنات ہے۔ہر جانور کا نظام ہے۔اس کا اپنا دماغ ہے۔ہر چیز کے قوانین مقرر ہیں۔تو جو باتیں میں آپ کو اختصار سے بتا رہا ہوں ان میں سے ہر بات کا کروڑواں حصہ بھی اگر آپ بار یک نظر سے اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھیں گے تو اس میں سے ایک جہان پیدا ہو جائے گا۔یہ معنی ہے ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ کا۔اللہ نے یہ سارے نظام پیدا کر دیئے اور پھر عرش پر اس لئے بیٹھا کہ از خود جاری ہو گئے گویا کہ آپ ہی آپ چلے جارہے ہیں۔