خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 414
خطبات طاہر جلد 16 414 خطبہ جمعہ 6 جون 1997 ء صاحب علم و دانش لوگوں تک اس طرح پہنچانا کہ وہ پھر پڑھیں بھی اور اس پر غور بھی کریں۔تو تبلیغ کے ذرائع تو بے شمار ہیں صرف تلاش کرنے والے کی ضرورت ہے۔وہ دیکھے تو سہی ، ڈھونڈے تو سہی کہ رستہ کون سا ہے تبھی خدا تعالیٰ قرآن کریم میں وعدہ فرماتا ہے۔وَالَّذِيْنَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا (العنكبوت : 80) کئی دفعہ یہ آیت آپ کے سامنے پڑھ چکا ہوں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جو لوگ ہمارے بارے میں جہاد کرتے ہیں یعنی ہمیں تلاش کرتے ہیں لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنا ہم نے فرض کر لیا ہے اپنے اوپر لازم ہے کوئی اس بات کو ٹال نہیں سکتا کہ یقیناً بالضرور ہم ان کو اپنی طرف ہدایت دے کے رہیں گے اپنے رستوں کی طرف لائیں گے۔اب رستہ تو صراط مستقیم ایک ہی ہے نا۔یہ مراد ہے رستوں سے یعنی صراط مستقیم تک اگر پہنچنا ہے تو تبلیغ یا دوسرے جتنے بھی نیکی کے رستے ہیں وہ چھوٹے چھوٹے مختلف راہوں میں بٹے ہوئے ہیں ان میں سے جس رستے پر آپ چلیں گے اور دعا کریں گے اللہ تعالیٰ آپ کا ہاتھ پکڑلے گا۔تو ایک رستہ ان میں سے یہ ہے کہ لائبریریوں تک بات پہنچائی جائے۔دوسرا راستہ یہی کتاب اہل علم و دانش تک اس سال کے ختم ہونے سے پہلے پہنچادی جائے۔تو انگلستان کی جماعت میں اگر ایک لاکھ کتاب تقسیم کرنے کا فیصلہ ہو تو زیادہ نہیں ہے۔مگر فیصلہ ہوگا پھر آئے گا کہاں سے، وہ روپیہ کہاں سے آئے گا۔پھر وہ تقسیم کیسے ہوگا۔اگر اس نظام کو قائم کئے بغیر آپ بڑی بات کرلیں گے، بڑی چھلانگ لگالیں گے کہ انگلستان کی جماعت کی طرف سے ایک لاکھ کا آرڈر لے لیں، ہمیں ایک لاکھ کتاب دے دیں تو یہ آرڈر لینا بھی بیوقوفی ہوگا کیونکہ مجھے پتا ہے کہ اس نے پھر کہیں نہ کہیں ڈمپ (Dump) ہو جانا ہے۔جو چیز آتی ہے اس کے اخراج کا بھی نظام ہوتا ہے۔اگر اس کے اخراج کا اور اس کی صحیح جگہ پر رہ کر صحیح حالت پر قائم رہنے کا نظام نہ ہو تو یہ ساری کوششیں بے کار ہو جاتی ہیں۔پس لٹریچر میں سے ابھی ایک دو باتیں میں نے آپ سے کہی ہیں باقی سارا لٹریچر موجود ہے۔کہاں کہاں پڑا ہوا ہے؟ کہاں کہاں پہنچائیں گے؟ کن کن جگہوں پر رکھوائیں گے؟ یہ سارا ایک نظام بنے والا ہے۔بنگالی لٹریچر ہے تو کہاں رکھا جائے گا۔لوگوں کو پتا ہونا چاہئے ، ہر بنگالی تبلیغ کرنے والے کو پتا ہونا چاہئے فلاں جگہ میرا مواد موجود ہے۔میرا صرف اتنا کام ہے کہ اپنے امیر یا اپنے