خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 413
خطبات طاہر جلد 16 413 خطبہ جمعہ 6 جون 1997 ء وہ سادہ سادہ چھوٹی چھوٹی بچیوں نے مل کر کام شروع کیا، تہلکہ مچا دیا کئی مخالفتیں اٹھیں، کئی جگہ ان کو مگر وہاں تو بد تمیزی ایک درجہ ہوتی ہے حد سے زیادہ بدتمیزی نہیں ہوتی مگر ان لوگوں میں مہذب ہونے کے باوجود بعض بد تمیزی بھی دکھانے لگے اور جیسا کہ ان کو نصیحت تھی آپ نے بالکل آگے سے کوئی سختی نہیں کرنی۔کوئی نہیں مانتا تو بسم اللہ کہہ کر واپس آجائیں۔یہاں تک کہ بعد میں پھر ان کی معذرت کے خط آئے، شرمندگی کے خط آئے کہ ہم نے آپ سے بدتمیزی کی تھی ہم معذرت کرتے ہیں۔تو ایک چھوٹی سی بات کے جواب میں ایک پورا نظام نہ صرف ابھرا بلکہ قائم ہو گیا ہے۔تو احمدی بچیوں سے اگر دوسرے کام نہ بھی لینے ہوں تو اس قسم کے کام بھی تو لئے جاسکتے ہیں اور یہاں بہت بڑے کام پڑے ہوئے ہیں۔یہاں جتنے سکول ہیں ان کی لائبریریاں ہیں ان تک سلسلے کا بنیادی لٹریچر پہنچانا اتنا بڑا کام ہے کہ اس کی جماعت کو اس وقت توفیق نہیں یعنی اس کام کو اگر آپ مہینوں میں بانٹیں، سالوں میں بانٹیں اور شروع کر دیں تو پھر ہو سکتا ہے۔مثلاً قرآن کریم انگریزی حضرت مولوی شیر علی صاحب کا قرآن کریم دنیا کا بہترین ترجمہ ہے وہ۔عرب بھی مجبور ہیں یہ کہنے پر کہ یہی بہترین ترجمہ ہے۔سعودی عریبین بھی یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ یہ بہترین ترجمہ ہے۔بزرگ انسان تھے سادہ تھے نیک تھے ہر ہر آیت کے ترجمے کے ساتھ دعائیں مانگی ہوئی تھیں اور عظیم الشان ترجمہ کی توفیق ملی ہے۔آج تک کوئی دنیا کا مترجم اس ترجمے سے بہتر ترجمے کا دعویٰ کر ہی نہیں سکا تو یہ قرآن کریم پھیلانا ہے مثلاً۔تو دیکھیں کتنے یہاں ہزار ہا سکول ہیں، یو نیورسٹیوں کے آگے شعبے ہیں اور ہر سکول کے ساتھ مختلف شعبے بھی وابستہ ہیں۔ہزارہا جو میں نے کہا ہے میرے نزدیک اگر صرف تعلیمی لائبریریوں کو آپ دیکھیں جو چھوٹی چھوٹی لائبریریاں ہیں یا ان کے ساتھ دوسری لائبریریوں کو ڈال دیں جو حلقوں کی لائبریریاں ہیں یا ان کے ساتھ دوسری لائبریریاں ہیں تو کم سے کم پچاس ہزار لائبریری انگلستان میں نکلے گی ، کم از کم ، اس سے زیادہ ہو تو ہو ، کم نہیں ہو سکتی۔ان پچاس ہزار لائبریریوں میں قرآن کریم رکھوانا کتنا بڑا کام ہے اور یہ تبلیغ ہے یعنی تبلیغ کی ایک یہ بھی قسم ہے اور پھر یہ سال اسلامی اصول کی فلاسفی کا سال ہے۔چند دن بچوں نے جوش دکھایا۔چند دن تقسیم کر دیئے بات و ہیں ختم ہو گئی۔دیکھنا یہ ہے کہ آپ کی جماعت کے ہاتھوں سے کتنی اسلامی اصول کی فلاسفی نکل کے کتنوں تک پہنچی ہے اور اس کے لئے لائبریریوں تک پہنچا نا صرف تبلیغ نہیں ہے بلکہ انفرادی طور پر