خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 410 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 410

خطبات طاہر جلد 16 410 خطبہ جمعہ 6 / جون 1997 ء بار یہ بتانا پڑتا ہے، آپ کو یاد کروانا پڑتا ہے کہ یہ طریق کار ہے۔اس ضمن میں مثلاً اگر آپ تبلیغ کا جائزہ لیں گے تو لٹریچر کا بھی تو جائزہ لینا پڑے گا۔لٹریچر کا جائزہ لیں گے تو آڈیوٹیسٹس کا بھی جائزہ لینا ہوگا، ویڈیوکیسٹس کا بھی جائزہ لینا ہوگا۔یہ بھی تو جائز ہ لینا ہوگا کہ اس لٹریچر میں کیا ہے۔مخالف کیا شرارتیں کرتا ہے اس کا جواب کس کس لٹریچر میں موجود ہے۔آڈیو ویڈیو میں کس قسم کی شرارتوں کے جواب موجود ہیں۔کون سی ایسی چیزیں ہیں جو سوال و جواب کے طور پر نہیں بلکہ جماعت کی خدمت کا تعارف کرانے میں بہت اثر رکھتی ہیں۔مجالس ہیں عربوں کے ساتھ ، جرمنوں کے ساتھ اور دوسری قومیں ہیں یا البانین وغیرہ ہیں صرف اس کو دیکھنا ہی اثر ڈال دیتا ہے۔غرضیکہ یہ جائزہ اپنی ذات میں ایک بڑا بھاری کام ہے اور اس جائزے کے بغیر آپ ان لوگوں کو جو تبلیغ کرنا چاہتے ہیں معین ٹھوس کام دے ہی نہیں سکتے، مجبوری ہے۔یہ سب چیزیں اپنی اپنی جگہوں میں جا کر دب جایا کرتی ہیں۔بہت سی آڈیو ویڈیوز ہیں جو اپنے اپنے مقام پر جا کر دب کر وہیں بیٹھ گئیں ، سو گئی ہیں وہاں جا کے اور ارد گر دلوگ پوچھ رہے ہیں کہ فلاں بات کا جواب ہم کہاں سے لیں۔ساری دنیا میں پہنچائی گئی ہیں یہ باتیں پھر وہاں سے خط آ جاتے ہیں۔کوئی ملک ایسا نہیں جہاں اس نظام کو جاری نہ کیا گیا ہو اور ہر ملک کے باشندوں کو اس ملک کے امیر نے یا جو بھی اس کا ناظم مقررتھا اس نے یہ ہی نہیں بتایا کہ ہمارے پاس کیا کیا چیز ہے۔تو بولو تو سہی کہ تمہارے پاس ہے کیا۔جیب میں پتا نہ ہو کہ کیا ہے تو کوئی مانگے گا کیا آپ سے۔اپنی جیب کے راز کھول دوساری جماعت کو بتاؤ۔ہرت تبلیغ کرنے والے کو بتاؤ تمہیں کیا پتا ہمارے پاس کیا کیا چیزیں ہیں اور جب یہ بتاؤ گے تو پھر ایک اور تقسیم ذہن میں ابھرے گی۔ہمارے پاس بنگالیوں کے لئے بھی لٹریچر ہے۔بنگالیوں کے لئے بھی ویڈیوز ہیں آڈیوز ہیں۔بنگالی زبان میں مختلف مجالس کے ترجمے ہوئے ہوئے ہیں اور بنگالی زبان میں بنگالی مسائل کو حل کرنے کے لئے ہمارے پاس آڈیوز بھی ہیں، ویڈیوز بھی ہیں اور بنگالی لٹریچر بھی ہے۔اب یہ سب اپنی جگہ دبا پڑا ہے۔ایک آدمی مشرقی لندن سے اٹھ کر مجھے خط لکھتا ہے کہ فلاں بنگالی دوست ہے میں اس کو کیا کروں۔اب ہر ایک کو میں کیسے جواب دوں کہ تمہارے سب مسائل کا حل پہلے سے ہو چکا ہے اور کتنا کام بڑھ جائے گا مرکزی۔جو کام ہوئے ہوئے ہیں ان کی