خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 411 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 411

خطبات طاہر جلد 16 411 خطبہ جمعہ 6 جون 1997 ء صرف اطلاعیں دینے کے لئے مرکزی دفتر ہمارا ڈاکخانہ بن جائے گا ان باتوں کیلئے جو پہلے اس جماعت میں موجود ہونی چاہئیں۔تو اس پہلو سے امراء کا کام ہے کہ اپنے مقامی امراء کا بھی جائزہ لیں ان کو پتا بھی ہے کہ نہیں مگر پتے سے پہلے خود پتا کریں۔امیر بدلتے رہتے ہیں نئے امیر آجاتے ہیں اس لئے میں خود پتا کرنے کا اسلئے کہہ رہا ہوں کہ جو نئے ہیں ان کو پتا کرنا ہوگا۔پتا کریں، جائزہ لیں کیا کیا چیزیں کہاں کہاں پڑی ہوئی ہیں۔اس جائزے سے ہی ان کے دل میں ایک ہیجان پیدا ہو جائے گا۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کے پاس اتنا کچھ ہے پورا با رود خانہ موجود ہے، پورا اسلحہ خانہ تیار ہے۔شاذ ہی کوئی ایسا پہلو ہو جو نیا ہو جس پر جواب دینے کے لئے ہمارے پاس کچھ نہ ہو اور پھر تحریر بھی موجود ہے، تقریر بھی موجود ہے، نظر آنے والی تصویریں بھی موجود ہیں۔تو اور پھر کیا چاہئے۔جب اس سوال پر آپ پہنچتے ہیں تو اس جائزے کے ساتھ ہی ایک اور سوال دل میں ابھر آتا ہے کہ بنگالی ہیں، ہندوستانی زبان میں ، ان کی مختلف زبانوں میں لٹریچر موجود ہے۔پاکستان کی مختلف زبانوں میں لٹریچر بھی موجود ہے، پیسٹس اور ویڈیوز بھی موجود ہیں۔قرآن کریم کے تراجم بھی موجود ہیں تو یہ لوگ کہاں ہیں۔ان لوگوں کو بھی تو پکڑنا چاہئے۔تو یہیں تبلیغ کرنے والوں کی آگے تقسیم ہو جائیں گی۔کچھ کو پاکستانیوں پر لگا دیں، کچھ کو بنگالیوں پر لگا دیں، کچھ کو افریقنوں پر لگا دیں جو یہاں رہتے ہیں اور اسی طرح آپ کی سوسائٹی کی تقسیم بھی خود بخود کام کے نتیجے میں ظاہر ہونی شروع ہو جائے گی یا نکھر کر سامنے آجائے گی۔تو پھر اتنے ہی آپ کو گروپ لیڈرز بھی بنانے پڑیں گے۔تو ایک تبلیغ کا کام ایک سیکرٹری کو سمجھا کر آپ چھوڑ دیں تو کیسے کر سکتا ہے۔اس کی طاقت ہی نہیں بیچارے کی۔چند دن اس کا جوش رہتا ہے وہ لکھ دیتا ہے چٹھیاں کہ بھئی تبلیغ کرو اور سال کے آخر پر دیکھیں میں نے اتنی چٹھیاں لکھی تھیں تبلیغ کرو۔کرؤ سے کیسے تبلیغ ہو جائے گی۔کرنا سکھانا ہے۔آپ کسی شہری کو کہہ دیں کہ منجی لگاؤ۔وہ چھوٹی سی سادہ سی چیز ہے جو ان پڑھ بھی کرتے ہیں وہ بے چارہ سارا سال وقت ضائع کرے گا کچھ بھی اس کو پتا نہیں لگے گا کس طرح لگانی ہے۔تو ہر کام کا ایک سلیقہ ہے وہ سلیقہ محض خواہش سے پیدا نہیں ہوتا محض بتانے سے بھی پیدا نہیں ہوتا۔آپ جتنے مرضی لیکچر دیں کسی کو کہ اس طرح تیرا کرتے ہیں ، اس طرح ہاتھ اٹھانا ہے، اس