خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 391
خطبات طاہر جلد 16 391 خطبہ جمعہ 30 مئی 1997 ء چنانچہ بعض علاقوں میں مثلاً مشرقی برلن اور اس کے ساتھ تعلق رکھنے والے علاقوں میں ایسے ہی بعض مخلص عرب ہمیں عطا ہوئے ہیں اللہ کے فضل کے ساتھ اور ان کے پیغام کا ایسا اثر ہے کہ اسی سال میں اب تک تین سو سے زائد عربوں کی بیعتیں ہو چکی ہیں اور وہ آگے پھر ان سے سیکھ رہے ہیں اور آگے بات کو بڑھا رہے ہیں۔ان میں غیر معمولی خدا کے فضل کے ساتھ احمدیت سے لگاؤ اور وابستگی پیدا ہورہی ہے۔تو صرف بوسنین کی بات نہیں ، صرف البانین کی بات نہیں، ہر قوم میں جہاں بھی اس نسخےکو آزمایا گیا ہے جو میں آپ کو پھر سمجھا رہا ہوں، میر انسخہ نہیں قرآن کریم کا نسخہ ہے۔یہ نسخہ ہمیشہ کارگر ثابت ہوتا ہے۔ان لوگوں میں سے آدمی چینیں ، ان کو سمجھائیں۔اب مدینے والی بات آج کے ماحول میں سمجھنی چاہئے۔مدینے سے مراد یہ تو نہیں کہ اب ربوہ ، مدینہ بناہماری ہجرت کا یا لندن مدینہ بن گیا ثانوی حیثیت سے، تو ساری دنیا سے لوگ یہاں اکٹھے ہوں۔یہاں بھی جب توفیق ملتی ہے تو اکٹھے ہوتے ہیں اور اس کا اپنا فیض پاتے ہیں مگر مدینے سے مراد ہر ملک کا مرکز اور اس مرکز سے تربیت یافتہ لوگ جہاں بھی پہنچ کر ڈیرہ لگاتے ہیں وہاں مدینہ بن جاتا ہے۔پس یہ ناممکن ہے کہ سب لوگ جرمنی میں فرینکفورٹ پہنچیں مگر فرینکفورٹ والوں کو یہ توفیق ہے کہ وہ مختلف مراکز میں پہنچیں۔وہاں ہمارے مربی ہیں وہ ان مقامی لوگوں کی تربیت کریں اور پھر آگے تربیت کی کلاسز میں وہی ساتھ شامل ہوں جو مقامی لوگ ہیں اور ان کی آپس میں دوڑیں کروائی جائیں۔یہ دو چیزیں ایسی ہیں جن کو آئندہ دو ماہ جو رہ گئے ہیں ان میں کثرت کے ساتھ استعمال کریں اور پیش نظر رکھیں تو اللہ تعالیٰ آپ کی اب تک کی تبلیغ کو دگنا بھی کر سکتا ہے، زیادہ بھی کر سکتا ہے جب وہ چاہے۔مگر جوں جوں جلسے کا وقت قریب آرہا ہے اسی نسبت سے ہمیں اپنے کام کی رفتار کو بڑھانے کی ضرورت ہے اور یہ وہ ترکیب ہے جو میں آپ کو سمجھا رہا ہوں۔ساری دنیا کے احمدیوں کو جہاں بھی وہ ہیں اس کو پہلے سے زیادہ سنجیدگی سے استعمال کریں لیکن پہلی بات جو کہی تھی وہ شرط ہے اس کی کامیابی کی۔اگر اس بڑھنے کے نتیجے میں آپ کو تکبر عطا ہونے کی بجائے عاجزی ملی ہے تو یہ نسخے ضرور کام کریں گے۔اگر تکبر کا کوئی کیڑا آپ کے دماغ میں داخل ہو گیا ہے تو یہ نسخہ بالکل بے کار جائے گا، اس کو استعمال کر کے دیکھ لیں، آپ کی تربیتی کلاسز کو کچھ بھی برکت نصیب نہیں ہوگی۔پس