خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 390 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 390

خطبات طاہر جلد 16 390 خطبہ جمعہ 30 مئی 1997ء کرنے کا نیا جوش پیدا ہوا۔ان کو سلیقہ آیا کیسے قوم کو سنبھالا جاتا ہے۔احمدیت سے ذاتی وابستگی کے ساتھ جب ان کو بتایا گیا کہ دیکھو ہر مشکل میں دعا کرنی ہے اور دیکھنا اللہ تمہاری کیسے مدد کرتا ہے تو جہاں جہاں اللہ نے مدد فرمائی ان کے حوصلے پہلے سے بہت بڑھ گئے۔تو وہاں بھی یعنی جرمنی میں بھی کامیابی اسی بنیادی بات کو نصیب ہو رہی ہے جو قرآن نے ہمیں سکھائی تھی۔پس اسی لئے میں نے وہاں بھی یہ کہا کہ کوئی نئی بات نہیں جو میں آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں۔یہ قرآن کریم نے سکھائی ہوئی ہے۔قرآن کریم نے ہمیں یہ سکھایا کہ جب کثرت سے تو میں اسلام میں داخل ہو رہی ہوں گی تو اس وقت ان میں سے کچھ لوگ ضرور سفر کر کے مدینے پہنچیں اور وہاں تربیت حاصل کریں اور پھر واپس اپنی قوم میں پھیل جائیں اور وہاں جا کر وہی تربیت کی باتیں آگے کریں۔اس قرآنی تعلیم میں بہت گہری حکمت ہے۔میں سوچتا ہوں تو حیران رہ جاتا ہوں کہ کس طرح اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو ساری دنیا کا معلم بنا کر ساری دنیا کو رام کرنے کا طریقہ بھی ساتھ ہی سکھا دیا۔جب تک بیرونی لوگ کسی قوم کو پیغام دیتے رہتے ہیں وہ پیغام بیرونی ہی رہتا ہے۔جب ان میں سے کچھ لوگ اٹھ کھڑے ہوں جو پیغام سمجھنے کے بعد پیغام کی نمائندگی خود اپنی قوم میں کرنے لگتے ہیں تو تب وہ پیغام بیرونی نہیں رہا کرتا۔اب جہاں بھی میں نے دیکھا ہے وہاں بوسنین ہوں یا البا نین ہوں یا دوسری قوموں سے تعلق رکھنے والے لوگ جہاں ان لوگوں نے خود ہمارے اس تربیتی نظام سے فائدہ اٹھا کر اپنی قوم میں احمدیت کو جاری کرنے کا ارادہ کیا، غیر معمولی برکت ملی۔عربوں کو جب عربوں سے آواز آئی ہے کہ ہاں یہ ہو رہا ہے، یہ ہونا چاہئے تو عربوں نے اس کے مقابل پر اس میں فوری طور پر لبیک کہا۔جب تک پاکستانی عربوں کو پیغام دیتے رہتے تھے قبول تو کر لیتے تھے لیکن سمجھتے تھے کہ یہ اور لوگ ہیں ، ہم اور لوگ ہیں لیکن عربوں میں ایسے ہیں خدا کے فضل کے ساتھ جن کا دور دور تک اثر ہے کیونکہ انہوں نے احمدیت کو سچا سمجھا، تقویٰ اختیار کیا، اللہ تعالیٰ سے ان کا پیار کا تعلق ہوا اور اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی برکت بخشی۔چنانچہ وہی بات عرب، عربوں سے سنتے ہیں جو پہلے پاکستانیوں سے سنا کرتے تھے اور عربوں سے سنتے ہیں تو اپنے گھر کی باتیں معلوم ہوتی ہیں، بہت مثبت ردعمل دکھاتے ہیں۔