خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 378
خطبات طاہر جلد 16 378 خطبہ جمعہ 23 رمئی 1997ء پورے نہیں ہوتے تو اگلے پھر کر بیٹھتے ہیں۔چنانچہ میں نے جماعت کو، یعنی نظام جماعت کو یہ نصیحت کی ہے کہ آئندہ سے ایسے لوگوں کا کوئی وعدہ بھی قبول نہیں کیا جائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ سے کھیل نہیں کی جا سکتی۔اخلاص کی بھی کھیل نہیں کی جاسکتی۔جو کچھ خدا کے حضور پیش کرنا ہے وہ کریں جو کرنا ہے اور اگر زیادہ ہے تو جب توفیق ہوگی اس وقت زیادہ بھی دیدیں مگر جو وعدہ کیا ہے اس سے کم نہیں ہونے دینا۔سوائے ایسے اتفاقی حادثات کے جس میں انسان مجبور ہو جاتا ہے اور اللہ بہتر جانتا ہے کہ ایسے لوگوں کے کیا حالات ہیں۔پس آپ سب کو میری عمومی نصیحت یہی ہے اور باقی دنیا کو بھی میں آپ کے حوالے سے یہ نصیحت کر رہا ہوں کہ ہم اللہ کی قوم ہیں۔توحید کے غلام ہیں۔ہم نے جو سو سالہ جشن منانا ہے وہ دنیا کی طرح تو نہیں منانا کہ بینڈ باجوں کے ساتھ اور آتش بازیوں کے ساتھ ایک صدی کے ختم ہونے اور دوسری کے شروع ہونے کا اعلان کر رہے ہوں۔ہم تو تو حید کے پجاری ہیں۔ایک صدی سے سر جھکاتے ہوئے خدا کے حضور گریہ وزاری کرتے ہوئے اگلی صدی میں داخل ہوں گے۔ان سب کامیابیوں پر سر جھکاتے ہوئے جو بظاہر ہمیں نصیب ہوں گی مگر اللہ کے فضل سے ہمیں عطا ہوں گی، ہماری کوشش کا کوئی اس میں فی الحقیقت معنی نہیں ہوگا کیونکہ ہماری کوششیں بھی اللہ ہی کی توفیق سے ہیں۔پس جس طرح حضرت محمدرسول اللہ یہ فتح مکہ کے وقت مکہ میں داخل ہوئے تھے۔اے عالمگیر جماعت غور سے سن لو کہ ہم نے اس طرح یہ صدی منافی ہے، اس طرح اس صدی میں داخل ہونا ہے۔فتح مکہ جو تمام فتوحات کی ماں تھی آنحضرت ﷺ اس حال میں داخل ہوئے کہ روتے روتے آپ کا سر کجاوے سے لگ گیا۔کجاوے پر سجدہ کر کے آنسو بہا رہے ہیں۔دنیا کا سب سے بڑا فاتح اس طرح سب سے عظیم فتح منا رہا تھا کہ خدا کے حضور اس کی روح بھی سجدہ ریز تھی ، آپ کی جان، آپ کی زبان، آپ کا کلام، آپ کا سرسب کچھ خدا کے حضور سجدہ کر رہا تھا۔ایسے آنسوؤں کے ساتھ اس طرح سر جھکاتے ہوئے آپ نے داخل ہونا ہے کہ ساری دنیا کو عظیم فتوحات دکھائی دے رہی ہوں۔جماعت احمدیہ نے بارہا جگہ جگہ جس طرح خدا تعالیٰ کے حضور مؤ حدوں کی جماعتیں پیدا کردیں، کثرت کے ساتھ دنیا کی ہر قوم میں سے، دنیا کے ہر رنگ میں سے اور ہر زبان میں سے ہمیں اگلی صدی سے پہلے ایسی قومیں تیار کرنی ہیں جو موحدین کی قومیں ہوں گی ، جو تو حید باری تعالیٰ کے سوا