خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 370 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 370

خطبات طاہر جلد 16 370 خطبہ جمعہ 23 رمئی 1997ء ہیں۔اگر یہ نہ ہو تو خلافت کا وجود مٹ جائے گا اس کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہے گی۔یہی وجہ ہے کہ جب میں افریقہ گیا تھا ان لوگوں کو میں نے یہ بات سمجھائی۔میں نے کہا دیکھو میں جب تم لوگوں سے ملتا ہوں تو خدا گواہ ہے ایک ذرہ بھر بھی مجھے تمہارے رنگ اور اپنے رنگ کا کوئی فرق دکھائی نہیں دیتا۔تمہاری زبان اور اپنی زبان کا کوئی فرق سمجھائی ہی نہیں دیتا۔میرے ذہن صلى الله میں تو اس کا تصور بھی نہیں آتا کہ ہم الگ الگ ہیں۔آنحضرت مہ کے ذریعے صفات باری تعالیٰ میں ہم اکٹھے ہوئے ہیں۔پس اس پہلو سے تمہارا وطن بھی میرا وطن ہے لیکن میں تم سے اس وطن کا حق کوئی نہیں مانگتا۔یہ ویسا ہی مضمون ہے جیسے آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ دیکھو میں تم سب کی خدمت کرتا ہوں مگر تم سے اجرت کوئی نہیں چاہتا۔پس میں نے کہا جہاں تک تمہارے حقوق کا تعلق ہے میں ان حقوق کو اسی طرح ادا کروں گا جیسے میں آپ کے ملک کا ، آپ کی قوم کا باشندہ ہوں۔جہاں تک آپ کی قوم سے میری توقعات کا تعلق ہے اس کے سوا میری کوئی توقع نہیں کہ آپ ان صفات میں مجھ سے تعاون کریں جو الہی صفات ہیں، جو عالمی صفات ہیں ان میں قوم کی اور جغرافیہ کی کوئی تفریق نہیں ہے اور اس پیغام کو افریقہ نے سمجھا اور بڑے جوش کے ساتھ اور بڑے بڑے ولولوں کے ساتھ انہوں نے جوابا کہا ہاں ہم یقین کرتے ہیں آپ ہمیں میں سے ایک ہیں، آپ ہم سے جدا الگ وجود نہیں ہیں اور یہ وہ ایک شخصیت ہے جو بنانے سے نہیں بنا کرتی۔یہ اندر سے اٹھتی ہے اس کا تعلق اللہ تعالیٰ کی ذات سے ہے اگر آپ اللہ کے وفادار بنیں گے تو لازم ہے کہ آپ کے اندر یہ شخصیت پیدا ہو۔پس آنحضرت ﷺ کی عالمیت آپ کی کامل غلامی کے نتیجے میں خلفاء کو بھی عطا ہوتی ہے اور اسی حد تک جب وہ اپنی صفات کو محمد رسول اللہ ﷺ کے رنگ عطا کرتے ہیں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اعلان کر دے وَاتَّبِعُوهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ اے خدا کے بند و اس کی یعنی محمد رسول الله الا اللہ کی اطاعت کرو وہی ہے جو تمہیں خدائے واحد و یگانہ کی طرف لے جائے گا۔وہی ہے جس کی صفات تمہیں خدا کی صفات سے ملا دیں گی اگر تم اس کی اطاعت کرو گے تو جیسے آپ فرماتے ہیں یہ رسول عالمی ہے اسے اس کے غلامو! تم بھی عالمی بن جاؤ گے۔یہ وہ عالمی صفات ہیں جن کو اپنائے بغیر دنیا کو کوئی عالمی پیغام نہیں دیا جا سکتا۔اسی لئے میں مسلسل زور لگارہا ہوں، بار بار آپ کو سمجھا رہا ہوں کہ خدا تعالیٰ