خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 368 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 368

خطبات طاہر جلد 16 368 خطبہ جمعہ 23 رمئی 1997ء سمجھائی۔آپ نے فرمایا کہ تم ایک قوم تو بن سکتے ہو یعنی ایک تو حید کے نام پر اکٹھے ہو رہے ہونگر زبانوں کو نہ مٹانا۔یادرکھو اگر تم نے بنگالی زبان پہ ہاتھ ڈالاتو وہ تمہارا ہاتھ کاٹ دیں گے مگر اپنی زبان کو نہیں مٹنے دیں گے۔تو توحید میں بھی ایک تفریق ہے اور وہ تفریق ایسی ہے کہ اگر اس پر آپ ہاتھ ڈالیں تو قو میں رد عمل دکھاتی ہیں مگر خدا کی وحدانیت میں جو عالمی صفات کی جلوہ گری ہے اس پر کوئی ہاتھ نہیں ڈال سکتا، وہ سب کے لئے برابر ہے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔بنگال میں جو علیحدگی کی تحریک چلی ہے وہ اس لئے چلی کہ بعد میں لیاقت علی خاں وغیرہ نے زبان کو کچلنے کے لئے کوشش شروع کر دی۔ان کا یہ خیال تھا کہ مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان جو اس وقت مشرقی پاکستان کہلا تا تھا ان کو اکٹھا کرنے کا اس کے سوا کوئی ذریعہ نہیں ہے کہ زبان ختم کردوان کی اور اردو پھیلا دو اور اردوزبان دونوں کو باندھ دے گی مگر جیسا کہ حضرت مصلح موعودؓ نے اپنی فراست سے سمجھا وہی بات درست ثابت ہوئی۔زبان پر ہاتھ ڈالنے کے نتیجے میں وحدت بنی نہیں ، ٹوٹ گئی اور یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ توحید کے اعلان کے باوجود یہ بھی فرماتا ہے: وَمِنْ أَيْتِهِ خَلْقُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافُ الْسِنَتِكُمْ وَأَلْوَانِكُمْ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَتٍ لِلْعَلِمِينَ (الروم: 23) کہ اللہ تعالیٰ کے نشانات میں سے یہ ہے کہ اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا۔وہ ایک ہی ہے پیدا کرنے والا گر تمہاری زبانوں اور رنگوں کے اختلاف بھی اسی نے پیدا کئے ہیں۔پس توحید میں ایک رنگ ونسل اور زبانوں کے اختلاف کا جلوہ بھی ہے جو تو حید کو باطل نہیں کرتا جو یہ پیغام دیتا ہے کہ اے عالمی تو حید کے علم بردارو!ا رنگ و نسل اور زبانوں کو مٹانے کی کوشش نہ کرنا کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ نے پیدا کی ہیں یہ رنگ اللہ تعالیٰ نے الگ الگ بنائے ہیں ان کے الگ الگ ہوتے ہوئے بھی توحید کے بندھن سے ان کا ایک گلدستہ بناؤ۔یہ ساری قو میں ایک خوبصورت گلدستے کی صورت میں توحید کے دھاگے سے باندھی جائیں تو یہ وہ عالمی منظر ہے تو حید کا جو جگہ جگہ دکھائی دے گا۔جرمن قوم کی جرمن زبان کی صورت میں تو حید جلوہ گر ہوگی ،ان کے خوبصورت سرخ وسفید رنگ کی صورت میں توحید جلوہ گر ہوگی۔افریقنوں کی زبان کی صورت میں وہاں تو حید جلوہ گر ہوگی۔ان کے سیاہ رنگ میں بھی ایک شان ہے۔آج چونکہ سفید قوموں کی بادشاہی ہے اس لئے لوگ یہ سمجھ