خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 363 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 363

خطبات طاہر جلد 16 363 خطبہ جمعہ 23 رمئی 1997ء کیا جائے گا۔وہ یہ بات بھول جاتے ہیں کہ توحید تو ساری کائنات کو اکٹھا کرتی ہے انسانوں کی کیا حیثیت ہے انسانوں کے وجود کی اپنی الگ تو حید کے علاوہ کوئی بھی حیثیت نہیں ہے۔آنحضرت ﷺ کا یہ پیغام کہ میں تم سب کے لئے رسول بنایا گیا ہوں اس پیغام سے متعلق ہے، اس سے جڑا ہوا ہے جس میں آپ فرماتے ہیں لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ يُحْيِ وَيُمِيتُ اس کے سوا معبود کوئی نہیں ہے۔اگر اس کے سوا معبود کوئی نہیں ہے تو تم سب کو اکٹھا کرنے کا اس کا حق ہے اور ایک ایسے شخص کے ذریعے اکٹھا کیا جا سکتا ہے جس میں اس کی وہ صفات مجتمع ہو جائیں جو بنی نوع انسان کی صفات ہیں یعنی اللہ تعالیٰ کی وہ صفات جو بنی نوع انسان سے تعلق رکھتی ہیں اگر ایک وجود میں اکٹھی ہو جائیں تو صرف اس کا کام ہے اور اسی کا کام ہے کہ تمام بنی نوع انسان کو اپنے لئے ، اپنی طرف اکٹھا کرے اور تمام بنی نوع انسان کو اکٹھا کر کے اللہ کے حضور پیش کر دے کیونکہ بالآخر وہی مالک ہے۔هُوَ يُخي وَيُمِيتُ پس اللہ کے سوا کوئی زندہ نہیں کرتا اور کوئی مارتا نہیں۔یہ وہ بات ہے جس کا میں نے ابھی آپ سے ذکر کیا تھا کہ Singularity جس کو سائنس دان کہتے ہیں وہ دراصل ہمارے نقطہ نگاہ سے موت کا دوسرا نام ہے لیکن ایک ایسے وجود کا دوسرا نام ہے جو دوبارہ زندہ ہوسکتا ہے یعنی زندگی کی طرف متحرک ہو سکتا ہے اور بالآخر صرف اللہ ہے جو موت سے زندگی نکالتا ہے۔اب یہ وہ مسئلہ ہے جس کے متعلق دو دن پہلے جرمنوں کے ساتھ ایک سوال و جواب کی مجلس میں سوال اٹھایا گیا تھا۔میں نے سوال کرنے والے کو جو بہت ذہین اور سائنسی امور سے اور فلسفیوں سے واقف لگتا تھا اس کو میں نے جب یہ جواب دیا کہ خدا تعالیٰ موت سے زندگی نکالتا ہے اور اس کی تفصیل اس کو سمجھائی کسی حد تک، یعنی ایک دائرے میں اس کو سمجھایا کہ موت اور زندگی کا فرق کیا ہے اور خدا تعالیٰ جب زندگی نکالتا ہے تو لازماً ایک وجود ہے جو اس سے پہلے موجود ہے۔اس پر اس نوجوان نے ایک سوال اٹھایا اس نے کہا کہ سائنس کے تو نظریات بدلتے رہتے ہیں آج کچھ اور کل کچھ اور خدا کی توحید کے متعلق، اس کے وجود کے متعلق ایک سائنس کا حوالہ دے رہے ہیں ہمیں کیا پتا کہ کل کو یہ نظریہ کیا ہو جائے گا۔اس نوجوان سے میں نے کہا کہ جو بات میں کہہ رہا ہوں اس کے متعلق تمام دنیا کے سائنس دان سو فیصد متفق ہیں اور اس بات میں آج تک کبھی سائنس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی نہ کل آسکتی ہے اور وہ