خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 360 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 360

خطبات طاہر جلد 16 360 خطبہ جمعہ 23 رمئی 1997ء ایک فوقیت عطا فرمائی ہے۔وہ فوقیت کیا ہے۔میں اس کے متعلق چند باتیں آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔آنحضرت ﷺ کو تمام بنی نوع انسان پر ایک ہی فوقیت ہے اور وہی فوقیت آپ کی قدرمشترک ہے، اللہ تعالیٰ کی صفات میں رنگین ہونا۔آنحضرت یہ چونکہ ایسی تھے اس لئے کسی قوم کی صفات نے آپ پر اثر نہ کیا۔چونکہ اللہ سے محبت رکھتے تھے اور اللہ آپ سے محبت رکھتا تھا اس لئے آپ نے اللہ کے رنگ سیکھے اور اللہ نے اپنے رنگ آپ کو سکھائے اور یہی وہ مرکزی نکتہ ہے جسے یا درکھنا عالمی وحدت پیدا کرنے کے لئے ضروری ہے۔خدا تعالیٰ کی صفات ہی ہیں جو در حقیقت اللہ کو اس کی مخلوق سے باندھتی ہیں اور ان صفات کا رشتہ نہ ہو تو کوئی اور رشتہ انسان کو دوسرے انسان کے ساتھ اکٹھا نہیں کر سکتا۔پس آنحضرت ﷺ کو امی ہونے کے باوجود جو غیر معمولی فوقیت عطا ہوئی وہ یہ تھی کہ آپ نے اللہ کی صفات سیکھیں اور اللہ کی صفات کا رنگ اپنے آپ کو پہنایا اور اس رنگ کے نتیجے میں آپ ایسے وجود کے طور پر ابھرے جیسے خدا اپنی مخلوق سے ہے۔اللہ کو اپنی ہر مخلوق سے تعلق ہے اور مخلوق میں سے کوئی نہیں جو یہ کہہ سکے کہ اے خدا تو تو بہت بلند ہے، بہت مرتبوں والا ہے، بہت عظیم الشان ہے، ہمارا تجھ سے کیا جوڑ ہے۔ناممکن ہے کہ ادنیٰ سے ادنی مخلوق بھی اللہ تعالیٰ سے یہ سوال کر سکے کہ ہمارا تجھ سے کوئی تعلق نہیں ، ہم تو ذلیل اور حقیر مخلوق ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کا جواب یہ ہوگا کہ یہ ناممکن ہے کہ خالق کا مخلوق سے کلیۂ تعلق توڑا جاسکے اور مخلوق جتنا چاہے دور ہے لیکن وہ خالق سے اپنا تعلق کسی صورت تو ڑ نہیں سکتی۔اگر وہ بگڑ گئی ہے تو اس کو صحیح کرنے کا ایک طبعی تقاضا ہے جو خالق کی صفت خالقیت سے اٹھے گا۔پس اللہ تعالیٰ کا تمام بنی نوع انسان ہی سے نہیں کائنات کی ہر مخلوق سے ایک ایسا تعلق ہے کہ اس مخلوق کے لئے شعور کا ہونا بھی ضروری نہیں ہے۔مادے کی ہر قسم خواہ وہ تخلیق کی بہت ہی ابتدائی حالت پر ہو اور قانونِ قدرت کے تابع اس کے لئے ترقی کرنا ابھی باقی ہو اس کی شاکلت میں ہی اللہ تعالی آئندہ ترقیات کے نقوش درج کر دیتا ہے اس لئے بظاہر انسان اس کو چھوٹا دیکھتا ہے مگر اس میں بڑھنے ، ترقی کر کے عظیم الشان انسان بننے کی صلاحیتیں موجود رہتی ہیں۔اس لئے انسان جب تک خدا کی کسی صفت کا مظہر نہ ہو اس میں صفات پیدا ہی نہیں ہوسکتیں اور صفات کا نہ ہونا عدم کا نام ہے۔پس سب سے اہم نکتہ توحید باری تعالیٰ کے معاملے میں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ توحید کے سوا