خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 361
خطبات طاہر جلد 16 361 خطبہ جمعہ 23 مئی 1997ء کوئی بھی ایسی چیز نہیں جو کائنات کو ایک دوسرے سے باندھ سکے، جو زندگی کو ایک دوسرے کے ساتھ باندھ سکے اور پھر انسانوں کو ایک ہاتھ پر اکٹھا کر سکے۔خدا تعالیٰ کو چھوڑ کر ہر چیز الگ الگ ہے، ہر ذرہ الگ الگ ہے اس میں کوئی بھی یکسانیت کا پایا جا نا مکن نہیں رہتا۔اس منظر کو اللہ تعالیٰ سائنسی دنیا میں ایک ایسے منظر کے طور پر پیش فرماتا ہے جسے سائنسدان آخری اکائی کہتے ہیں اور جسے وجود کے افق کے پر لی طرف بتایا جاتا ہے۔سائنس دانوں کے نزدیک اس وحدت کا نام Singularity ہے اور وہ وجود کے افق پر جس کے بعد ہمیں کچھ دکھائی نہیں دیتا کہ اس وحدت کو کیا ہوا، اس نے کیا شکل اختیار کی اسے وہ Event Horizon کا نام دیتے ہیں یعنی سائنس دانوں کے نزدیک ایک Event Horizon ہے جس کے بعد تمام مادہ اپنی تمام تر صفات کے ساتھ ایک ایسی وحدت میں ڈوب جاتا ہے جس وحدت کی باہر والوں کو کوئی بھی خبر نہیں۔حساب دان ہیں جو حساب لگاتے پھرتے ہیں اور ان میں بھی بڑے اختلافات ہیں۔بعض حساب دان اس وحدت کا ایک تصور رکھتے ہیں۔بعض حساب دان اسی طرح بہت بڑے بڑے دنیا کے علماء ایک وحدت کا دوسرا تصور رکھتے ہیں مگر فی الحقیقت کوئی نہیں ہے جو Event Horizon سے پر لی طرف گزر سکے، جو اس افق پر جو وجود کا افق ہے اس پر نگاہ ڈال کر اس سے پاردیکھ سکتا ہو اور پار وہ Singularity ہے یعنی توحید۔پس سائنس دان اپنی زبان میں بھی ایک توحید ہی کا اقرار کر رہے ہیں اور توحید کے اقرار کے بغیر وجودہی ممکن نہیں ہے۔وہ کہتے ہیں یہ توحید Singularity جب بھی ابھرے گی صفات کی صورت میں ابھرے گی اور جب ڈوبے گی تو ہمارے نقطہ نگاہ سے صفات ہماری نظر سے غائب ہو جائیں گی اور اسی کا نام عدم ہے۔پس ساری کائنات میں اگر عدم ہے تو خدا تعالیٰ کی طرف لوٹ جانے کا نام عدم ہے اور چونکہ یہ عدم نسبتی ہے، ایک وجود کی طرف لوٹ جانے کا نام ہے جو خالق ہے اس سے پھر یہ عدم دوبارہ تخلیق کی شکلیں اختیار کرتا ہے۔توحید عالم اور توحید باری تعالیٰ یہ ایک ہی چیز کے دو نام بن جاتے ہیں مگر جو بات میں آپ کو سمجھا رہا ہوں وہ صرف اتنی ہے کہ صفات ہی کا نام زندگی یا وجود ہے۔صفات باری تعالیٰ کو نکال دیں تو کوئی وجود باقی نہیں رہتا۔اس پہلو سے اللہ تعالیٰ کی دو طرح کی صفات ہیں ایک وہ صفات جو کسی خاص مخلوق سے ایک تعلق رکھتی ہیں۔کچھ وہ صفات جو زیادہ تر مخلوق سے تعلق رکھتی ہیں۔جہاں تک