خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 30
خطبات طاہر جلد 16 30 خطبہ جمعہ 10 / جنوری 1997ء وجواب کی مجلس میں بات اٹھ گئی۔تو ان سب باتوں نے مل کر اور آتی دفعہ منیر جاوید صاحب کا یہ کہنا کہ آپ کو شاید یاد نہیں وہ پہلا پینج بھی جمعہ ہی کے دن تھا، مجھے اس بات پر اب کامل یقین ہو گیا ہے کہ انشاء اللہ یہ رمضان ہمارے لئے غیر معمولی برکتوں کا رمضان بن کر چڑھے گا اور اس کی دعائیں انشاء اللہ اس صدی کا احمدیت کے حق میں نیک انجام ظاہر کرنے میں بہت ہی غیر معمولی خدمت سرانجام دیں گی، یعنی دعائیں یہ خدمت کریں گی۔اللہ تعالیٰ قبول فرمائے گا اور آسمان سے جو تقدیر وہ ظاہر فرمائے گا احمدیت کے غلبے اور نصرت کی تقدیر ہوگی اور جو وہ تقدیر ظاہر فرمائے گا احمدیوں کے دشمنوں کی ذلت اور مثبت اور ہلاکت کی تقدیر ہوگی۔پس ہم نے جو کام کرنا ہے وہ دعائیں ہیں اور خدا تعالیٰ نے جو کام کرنا ہے وہ یہ ہے کہ میرے بندوں سے کہہ دے کہ جب بھی وہ مجھے پکارتے ہیں فَإِنِّي قَرِيبٌ تو میں ان کے قریب ہوں۔تو اللہ تعالیٰ کی قربت کا نشان بنا ئیں اور حقیقت میں لیکھرام کے نشان کا تعلق بھی قربت الہی کے ساتھ تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس کو یہ سمجھارہے تھے کہ تو خدا سے دور ہے اور میں قریب ہوں اور آنحضرت ﷺ کی شان میں تیری گستاخی مجھے کسی قیمت پہ برداشت نہیں ہے۔آپ نے ایسے ایسے الفاظ استعمال کئے ہیں کہ انسان لرزا اٹھتا ہے۔فرماتے ہیں میں یہ برداشت کر سکتا ہوں کہ میرے بچے میرے سامنے ذبح کر دیے جائیں۔میرے عزیز ترین اقرباء اور پیارے میری آنکھوں کے سامنے ہلاک کر دیئے جائیں مگر محمد رسول اللہ کی شان کے خلاف گستاخی میں برداشت نہیں کر سکتا۔آج اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ اللہ کے غلام کے لئے میرے دل میں وہی محبت کا جذبہ پیدا کیا ہے یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے لئے اور یہی میری ہمیشہ سے دعا ئیں رہی ہیں کہ جس طرح آپ نے حضرت اقدس محمد رسول اللہ لہو کے دفاع میں آپ پر جھوٹے الزام لگانے والوں کے مقابل پر اپنی چھاتی آگے کی تھی ، خدا مجھے بھی توفیق بخشے میں مسیح موعود ، محمد رسول اللہ کے غلام کے لئے اپنی چھاتی آگے کر دوں۔جو تیر برسنے ہیں یہاں برسیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ان کا گزند نہ پہنچے۔پس اس جذبے کے ساتھ میں یہ تحریک کر رہا ہوں اور جیسا کہ میں نے آپ کو بتایا ہے دراصل یہ قربت کے نشان کی بات ہے۔اگر ہم اللہ کے قریب ہیں تو وہ اپنا وعدہ ہمارے حق میں ضرور پورا کرے گا۔اگر یہ مخالف اللہ سے دور ہیں تو خدا تعالیٰ ان کو ضرور