خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 351
خطبات طاہر جلد 16 351 خطبہ جمعہ 16 مئی 1997ء پیارے تھے کہ آپ سے دشمنی کرنے والے خدا کے قہر کی نظر کے نیچے تھے مگر آنحضرت میر کو بنی نوع انسان سے جو رحمت کا تعلق تھاوہ خدا ہی کی رحمت کے تعلق کا ایک نشان تھا۔پس آپ کے حوالے سے بنی نوع انسان پر رحم کیا جارہا تھا۔اللہ تعالیٰ آپ کے دل کی رحمت کو دیکھتا تھا جو اپنے دشمنوں سے اور اس کی رحمت کے حوالے سے ان سے بھی نرمی کا سلوک فرماتا تھا۔اب یہ وہ مضمون ہے اطمینان قلب کا جس کو اگر آپ سمجھیں تو آپ کو بہت خزانے مل جائیں گے بہت بڑی دولت ہاتھ آجائے گی۔اللہ کو محمد رسول اللہ یر سے کیوں پیار تھا اس لئے کہ خدا نہ ہوتے ہوئے آنحضرت ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی صفات سے پیار کیا اور خدا کی ذات کا پیار اس کی صفات کے پیار سے الگ نہیں ہو سکتا۔پس یہ عجیب سی بات دکھائی دیتی ہے کہ بظاہر خدا تعالیٰ خود اپنی ہی ذات سے پیار کر رہا ہے مگر یہ پیارا ایک شیشے کے حوالے سے ہے۔کوئی انسان جو بہت ہی خوبصورت ہوا سے آئینہ کا حوالہ لینا پڑتا ہے، آئینہ کا ذریعہ اختیار کرنا پڑتا ہے۔آئینہ دیکھتا ہے تو پھر اپنا حسن دکھائی دیتا ہے۔پس خدا کے وہ بندے جن کا دل اللہ کے ذکر سے اطمینان پا جاتا ہے وہ اللہ کے لئے آئینہ بن جاتے ہیں۔ان میں خدا تعالیٰ اپنے ذکر کو جلوہ گر دیکھتا ہے اور ان میں جلوہ گر دیکھتے ہوئے خدا تعالیٰ کو اس حسن سے ایک اور قسم کا پیار پیدا ہوجاتا ہے۔جو اسی کا حسن ہے مگر کسی نے عاریہ لیا ہے اپنے اوپر جاری کیا ہے۔پس اگر چہ اللہ کی رحمت سب لوگوں کی خیر چاہتی ہے مگر جب اس کے بندے لوگوں کے دکھوں کے باوجود، خدا کی رحمت کو اپناتے ہوئے ان کی بھلائی چاہتے چلے جاتے ہیں تو اللہ ان کے حوالے سے ان کو معاف فرماتا ہے۔اس رحمت کے حوالے سے ان کو معاف فرماتا ہے جو دنیا میں کام کر رہی ہے۔اس رحمت کو توڑنے کے لئے ، اسے مجروح کرنے کے لئے دنیا ہر کوشش کرتی ہے مگر وہ اس پر قائم رہتے ہیں۔ایسے خدا کے بندے اس کو اور بھی زیادہ پیارے لگنے لگتے ہیں اور یہ وہ لوگ ہیں جن کا دل اللہ سے ایسا اطمینان پاتا ہے کہ خدا تعالیٰ سے ان کے لئے الگ ہونے کا کوئی سوال ہی باقی نہیں رہتا۔مگر اسی صورت میں ایک مباہلہ بھی ہے۔جب دین کی بقاء کی خاطر ، جب دنیا کو دکھانے کے لئے کہ واقعہ یہ خدا کے بندے ہیں وہ خدا سے التجا کرتے ہیں اور خدا کے حکم پر مباہلہ کرتے ہیں تو اس کے نتیجے میں پھر ان کی رحمت دشمنوں کی راہ میں آڑ نہیں بن سکتی ، روک نہیں بن سکتی۔