خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 345
خطبات طاہر جلد 16 345 خطبہ جمعہ 16 مئی 1997ء بیچارے تجارتیں کرتے پھرتے تھے یہاں سے کچھ کپڑا خریدا اوہاں جا کے بیچا تو اس وقت تمنائیں بھی چھوٹی تھیں۔ان کا دل چاہتا تھا کسی طرح اتنا منافع ہونا شروع ہو جائے کہ میں اپنے بال بچوں کو اچھی زندگی دے سکوں اور جب وہ نصیب ہوا تو تجارت کے اور رستے ان کے سامنے کھل گئے اور بال بچوں کو اچھی زندگی دینا مقصود نہ رہا بلکہ اس پر دل کو پورا اطمینان باقی نہ رہا۔اب خواہش یہ ہے کہ اس تجارت کو بڑھا کر بعض چیزوں کے کارخانے کیوں نہ لگالوں اور جنہوں نے کارخانے لگائے ان کے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ ان کارخانوں کو انٹر نیشنل تجارت یعنی تمام دنیا میں تجارتوں کے ذریعے اتنا فروغ دوں کہ میں اپنی اس پروڈکشن میں ، جو کاروبار میں کر رہا ہوں اس میں اور زیادہ چھکوں اور جو اور زیادہ چمکتے ہیں پھر اور زیادہ بڑے ہاتھ ڈالنے لگتے ہیں یہاں تک کہ بسا اوقات شیطان دل میں وسوسہ ڈالتا ہے کہ تمہیں سچا اطمینان اس وقت تک نہیں مل سکتا جب تک لاکھوں مارک تم بینک سے قرضہ لے کر اپنی تجارت کو اور زیادہ بڑھانہ لو۔چنانچہ وہ نفس مطمئنہ کی تلاش میں کہ شاید وہاں جا کر میرے دل کو اطمینان نصیب ہو لاکھوں مارک قرضہ اٹھا لیتا ہے اور پھر ایسا دھکہ لگتا ہے تجارت کو کہ سب کچھ ہاتھ سے نکل جاتا ہے لیکن جس کے ہاتھ سے سب کچھ نکلے وہ جانتا ہے کہ دنیا کا اطمینان، اطمینان کی آخری منزل نہیں۔جو دنیا کی طلب ہے اس میں اطمینان کو کبھی بھی آخری منزل نصیب نہیں ہوا کرتی اور انسان اس پر ٹھہر نہیں جایا کرتا بلکہ اطمینان کی نئی نئی راہیں اس کو دکھائی دینے لگتی ہیں کہ ان راہوں پر چلوں گا تو مجھے اطمینان نصیب ہوگا اور ساری زندگی اطمینان کی تلاش میں گزر جاتی ہے۔ہر منزل کو اطمینان سمجھتا ہے مگر ہر منزل پر پہنچ کر معلوم ہوتا ہے کہ اطمینان کی منزل اس سے آگے تھی۔پس یہ جو خیال ہے عامۃ الناس کا کہ ہم تو روز مرہ کی زندگی میں مادہ چیزوں کے حصول پر بھی اطمینان قلب حاصل کر لیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ أَلَا بِذِكْرِ اللهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ وہ اگر آیت کے اس حصے پر غور کریں تو ان کو معلوم ہوگا کہ ان کا اطمینان کا تصور جھوٹا تھا۔دنیا کی پیروی سے، دنیا کو حاصل کرنے کے نتیجے میں بھی اطمینان نصیب نہیں ہوتا مگر بہت سے ایسے ہیں جن کو دنیا حاصل بھی نہیں ہوتی۔وہ بیچارے پیچھے بھاگتے پھرتے ہیں، زور لگاتے ہیں مگر کچھ ہاتھ نہیں آتا۔بہت سے ایسے ہیں جو کچھ ہاتھ میں تھا وہ بھی گنوا بیٹھتے ہیں۔بہتوں کی تجارتیں