خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 334 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 334

خطبات طاہر جلد 16 334 خطبہ جمعہ 9 مئی 1997ء استعمال کرتے ہیں کہ ہماری چیز ہے۔تو جھوٹی اپنائی ہوئی چیز بھی اپنی ذات میں اپنی ایک غیرت بنا دیتی ہے اور اس سے جو ٹکراتا ہے اس کو سزا دی جاتی ہے۔پس اس لئے شرک اور دنیا کا امن اکٹھے رہ سکتے ہی نہیں یہ دو ایسی متضاد چیزیں ہیں جو ایک دل میں اور ایک عمل میں اکٹھی نہیں ہوسکتیں۔پس اللہ تعالیٰ سے دعا مانگیں کہ اس مضمون کو سمجھنے کی اور ایسے صبر کی توفیق عطا فرمائے کہ جس صبر کے بغیر حسنہ ترقی نہیں کر سکتی۔جس صبر کے بغیر غیر اللہ کے مقابلے کی توفیق نہیں ملا کرتی۔پھر اگر ہجرت کی توفیق ہو تو ہجرت کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ آپ کی صلاحیتوں کو بھی پھیلائے گا۔أَرْضُ اللهِ وَاسِعَةً (النساء: 98) کا مطلب صرف یہ نہیں کہ زمین ہی چوڑی ہے۔مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو یہ طاقت حاصل ہے کہ آپ کی تمام صلاحیتوں کو بھی وسیع کرتا چلا جائے اور آپ کے عمل کے نتائج کو بھی جزاء میں وسعت دے اور اس طرح خدا کی زمین آپ کو وسیع دکھائی دے۔یہ پاکستان میں بسنے والے احمدیوں کے لئے از حد ضروری ہے۔سب دنیا کے احمدیوں کے لئے یہ قدر مشترک ہے، یہ مضمون واحد ہے، سب کے لئے برابر ہے۔مگر پاکستان آج کل جن حالات میں سے گزر رہا ہے ان کے پیش نظر خصوصیت سے میں نے پاکستانی احمد یوں کو سامنے رکھتے ہوئے یہ مضمون بیان کیا ہے۔ان کی حفاظت توحید میں ہے۔ان کی حفاظت انتشار سے بچنے میں ہے۔اپنی قومی وحدت کو سلامت رکھیں۔جماعتوں میں کسی جگہ بھی انتشار کا شائبہ تک نہ پیدا ہونے دیں۔جو جماعتیں منتشر ہیں فوری طور پر ان کے انتشار کو دور کرنے کی کوشش کریں ورنہ آپ تو حید کی حفاظت میں نہیں آسکتے اور اگر آپ یہ کر لیں یعنی ظاہری انتشار ختم کر دیں تو پھر یاد رکھیں کہ دلوں کا انتشار دور کرنا بھی باقی ہے۔پہلی منزل تو ظاہری انتشار کو دور کرنا ہے۔پہلا فرض تو ظاہری انتشار کو دور کرنا ہے۔اگر ظاہری انتشار دور نہ ہو تو آدمی یہ دعویٰ بھی نہیں کر سکتا کہ میرا دل مجتمع ہے۔دل کی صلاحیتوں کا مجتمع ہونا تو حید ہی کا دراصل دوسرا نام ہے اور ایسا شخص پھر منتشر نہیں ہوا کرتا ،ظاہر میں بھی منتشر نہیں ہوا کرتا۔پس جماعت کی وحدت کو انتشار سے بچائیں اور افراد کے اندر اپنے نفوس کو مجتمع کرنے کا احساس پیدا کریں اور بار باران کو یہ تعلیم ہونی چاہئے کہ اگر تم ان خطرات سے امن چاہتے ہو تو مسلم بننا پڑے گا کیونکہ مسلم امن یافتہ کو بھی کہتے ہیں اور یہ جو تعریف ہے اسلام کی عبادت کو خالص کرنا اور اول المسلمین ہونا یہ وہ راز ہے جس سے تمام دنیا کا امن وابستہ ہے۔مگر خطرات کے موقع پر خصوصیت سے جب