خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 28 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 28

خطبات طاہر جلد 16 28 خطبہ جمعہ 10 /جنوری 1997ء اس پر پھر وہ رات آئی جس میں مجھے خدا نے وہ چکی چلتی ہوئی بتائی اور میں نے پھر صبح دوسرے دن جمعہ تھا اس میں اعلان کیا کہ اب خدا تعالیٰ کی طرف سے مجھے یہ اطلاع ملی ہے، یہ خبرمل گئی ہے آخری فیصلہ کن کہ اب اس کے دن پورے ہو چکے ہیں۔اب خدا کے عذاب کی چکی سے یہ شخص بچ نہیں سکتا اور اگلے جمعہ سے پہلے پہلے اس طرح یہ ہلاک ہوا ہے کہ ہمیشہ کے لئے عبرت کا نشان بن گیا ہے۔پہلا فرعون تو ایسا تھا جس کی لاش عبرت کے لئے محفوظ کر دی گئی تھی۔یہ اس دور کا فرعون ایسا ہے جس کی خاک بھی نہیں بچی۔صرف مصنوعی دانتوں سے وہ پہچانا جاتا ہے اور وہی عبرت کا نشان بن گئے ہیں ہمیشہ کے لئے۔تو ان مولویوں کی پھر بھی آنکھیں نہیں کھلیں اور یہ عجیب بات ہے، یہ ساری باتیں اکٹھی ہوگئی ہیں اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ یہ سال ایک بہت غیر معمولی سال ہے، پچھلا سال بھی اس لحاظ سے غیر معمولی تھا کہ پچھلے سال بھی رمضان سے پہلے میں نے جماعت کو تحریک کی تھی کہ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ مولوی کی ذلتوں کے اب سامان شروع کرے اور اَللَّهُمَّ مَزِقُهُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ وَسَحِقُهُمُ تَسْحِیقًا کی دعا خصوصیت سے یا درکھیں اور اس رمضان میں یہ دعائیں بطور خاص توجہ اور الحاج سے کریں اور اس کے بعد وہ واقعات رونما ہوئے جن کے بعد مولوی کے سارے منصوبے دھرے رہ گئے اور اگر وہ انقلاب نہ آتا جس انقلاب کے نتیجے میں حکومت رفع دفع ہوئی تو ان مولویوں کے تو بہت عجیب ارادے تھے اور ان کا فوج میں ایسا اثر رسوخ ہو چکا تھا کہ فوجی انقلاب کے ذریعے یہ ملک پر قابض ہونا چاہتے تھے اور چونکہ وہ ایک خاص ٹولہ تھا جواب بھی وہی ٹولہ ہے جو آگے آ رہا ہے۔اس لئے اگر وہ مولوی آ بھی جاتے تو دوسرے مولویوں نے اسے قبول نہیں کرنا تھا اور ملک کے عوام نے اسے قبول نہیں کرنا تھا۔تو بہت بڑی تباہی سے اور خون خرابے سے جماعت کی دعاؤں کو قبول کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے بچالیا۔تو ملک کے اصل محافظ اور ہمدرد تو ہم ہیں، تم کیا چیز ہو۔تم تو پورا زور لگا رہے ہو کہ ملک برباد ہو جائے۔یہ احمدیوں کی دعائیں ہی ہیں جو اس ملک کو بار بار بچانے میں کام آتی ہیں۔تو اس پہلو سے اب کی جو دعائیں ہیں اس میں یہ یاد رکھیں کہ ایک لیکھرام کو برباد کیا مگر یہ عقل والے لوگ نہیں ہیں۔ایک فرعون تباہ ہوا لیکن پھر بھی انہوں نے عبرت نہ پکڑی۔تو اے خدا اب ان سب فراعین کی صف لپیٹ دے جو مسلسل تکبر میں اور جھوٹ میں پہلے سے بڑھ بڑھ کر چھلانگیں لگارہے ہیں اور ظلم اور