خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 27 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 27

خطبات طاہر جلد 16 27 27 خطبہ جمعہ 10 جنوری 1997ء کے دور میں تو ہوا ہی نہیں تھا وہ مباہلہ۔نہ ان کو اسلام کی تاریخ کا پتہ، نہ شرائط کا کوئی علم۔اصل بات ہے لَّعْنَتَ اللهِ عَلَى الْكَذِبِينَ (آل عمران : 62) خدا کی لعنت پڑے جھوٹوں پر۔اس کے لئے کون سی سرزمین کی ضرورت ہے۔پس اس جمعہ پر میں ایک فیصلہ کن رمضان کی توقع رکھتے ہوئے جماعت احمدیہ کو تاکید کرتا ہوں کہ اس رمضان کو خاص طور پر ان دعاؤں کے لئے وقف کر دیں کہ اے اللہ اب ان کے اور ہمارے درمیان فیصلہ فرما کہ تو احکم الحاکمین ہے۔تجھ سے بہتر کوئی فیصلہ فرمانے والا نہیں اور چونکہ مباہلے کے نام سے ان کی جان نکلتی ہے اور کہتے ہیں کہ احمدی بھاگ رہے ہیں، بے وقوفی کی حد ہے۔مباہلے کا تو میں نے چیلنج دیا تھا ہم کیسے بھاگ رہے ہیں۔چیلنج میں نے دیا ہے اور بھاگ میں گیا ہوں۔وہ تو سب جگہ مشتہر پڑا ہوا ہے۔اسی چیلنج کی وجہ سے تو تم احمدیوں کو قید و بند کی صعوبتوں میں مبتلا کرتے رہے، شور ڈال دیا کہ انہوں نے ہمیں مباہلے کا چیلنج دے دیا ہے اور پھر کہتے ہو کہ بھاگ گئے۔قبول کر لیتے، بھاگ کیسے سکتے تھے، ہم تو دے چکے تھے۔جس کی ترکش سے تیر نکل چکا ہو واپس کیسے لے سکتا تھا ؟ اور پھر جب ضیاء نے بھی ہاں نہیں کی تو میں نے جمعہ میں اعلان کیا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے رات رؤیا میں ایسی خبر دی ہے جس سے میں سمجھتا ہوں کہ جو خدا تعالیٰ کے عذاب کی چکی ہے وہ چل پڑی ہے اور یہ شخص اگر اس کو بے عزتی سمجھتا ہے کہ میں مرز طاہر احمد کو جس کو میں نے عملاً ملک سے نکال باہر پھینکا ہے یعنی روکنے کے باوجود نکل گیا ہے یہ مراد ہے وہ کیا چیز ہے، اس کی حیثیت کیا ہے، میں اس کے چیلنج کا جواب کیوں دوں۔میں نے کہا اگر ان صاحب کی یہ سوچ ہے تو اس کا اعلان یہ بتا تا ہوں کہ یہ آئندہ بدزبانیوں سے باز آ جائے اور احمدیت کے خلاف جو اقدامات کئے ہیں ان کی سنجیدگی سے پیروی نہ کرے۔اگر تو بہ نہیں کرنی تو اتنا ہی کرے۔یہ غالبا چند جمعے پہلے اعلان کیا تھا کہ ایسا کر لے تو میں سمجھتا ہوں کہ یہ مباہلے کی زد سے بچ جائے گا کیونکہ عملاً یہ اپنا سر خدا کے حضور خم کر دے گا کہ میری تو بہ، میں اب ان باتوں میں مصر نہیں ہوں ، ضد نہیں کرتا۔اب تاریخیں تو مجھے یاد نہیں رہیں مگر یہ مجھے علم ہے قطعی طور پر کہ ضیاء کی ہلاکت سے کچھ عرصہ پہلے میں نے یہ اعلان اسی مسجد میں کیا تھا ، جمعہ میں کیا تھا لیکن اس کے بعد اس نے اپنے حالات نہیں بدلے بلکہ شرارت میں بڑھتا چلا گیا۔