خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 329 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 329

خطبات طاہر جلد 16 329 خطبہ جمعہ 9 مئی 1997 ء آسمان پر خدا کا ایسا قرب حاصل کرتے ہیں کہ کسی اور کو نصیب نہیں ہوتا۔ پس میں تو اس عقیدے پر سو الله صلى الله فیصد قائم ہوں کہ محمد رسول اللہ ﷺ کا اللہ ﷺ کا معراج ، آپ کی عبادتوں کا معراج اس دنیا میں ہوا ہے۔ محمد رسول اللہ ﷺ کا معراج ہر نیکی کا معراج تھا جس نے اجتماعی صورت اس معراج کی اختیار فرمائی جس پہ خدا تعالیٰ کی طرف سے سب دنیا کو بتا دیا گیا کہ اس سے آگے خدا کے قریب تر کبھی کوئی انسان کبھی کوئی مخلوق نہیں پہنچی ۔ اتنی بڑی نعمت اور ہمیں اس میں شامل فرمالیا ہے سب پر برابر کھول دی گئی ہے۔ یہ جو اعلان کیا کہ قُل تو یہ مراد نہیں کہ اعلان کرنے کے بعد فرمایا ہے کہ بس اب میں ہی ہوں جو ان نعمتوں سے فائدہ اٹھاؤں گا۔ اس اعلان کے ساتھ دوسرے اعلانات بھی ہیں جس میں بتایا گیا ہے کہ جو جو ترقیاں میں نے حاصل کیں ، راز میں تمہیں بتا دیتا ہوں آؤ اور دوڑ دیکھوان میدانوں میں ۔ جس میں جتنی ہمت ہے اس ہمت کے مطابق اسے ضرور جزا دی جائے گی قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ يُوحَى إِلَى (الكهف : 111) اعلان کر دے کہ میں بشر ہوں اور ان معنوں میں تم جیسا ہوں که بنیادی صلاحیتوں کے لحاظ سے جو صلاحیتیں تمہیں ملی ہیں، پاک فطرت لے کر تم پیدا ہوئے ہو وہی صلاحیتیں مجھے بھی ملی تھیں لیکن ان صلاحیتوں کو میں نے چپکایا ہے، ان تمام تر صلاحیتوں کو خدا کے حضور پیش کر دیا، اس کے سپرد کر دیا، یہی اسلام ہے اور نتیجہ کیا نکلا کہ يُوحَى إِلَى مُجھ پر وحی کی جاتی ہے اَنَّمَا الهُكُمُ الهُ واحِد یہ مجھے وحی کی جارہی ہے کہ خدا ایک ہے اس کے سوا اور کوئی خدا نہیں۔ اب بشر کے بعد اس وحی کا کیا تعلق ہے۔ خدا ایک ہے اس لئے ہے کہ بشر اگرچہ بے شمار ہیں لیکن بشر اصل میں توحید سے بشر بنتا ہے اور جب تک خدا کی توحید کے ذریعے اپنے اندر خدا کی وحدت پیدا نہ کریں ہر غیر اللہ کا تصور نکال کے نوچ کر باہر نہ پھینک دیں اس وقت تک حقیقی معنوں میں ”البشر نہیں بن سکتے تو فرمایا میں بھی تو بظاہر تم جیسا ہی بشر ہوں لیکن مجھ پر وحی کی جا رہی ہے أَنَّمَا الْهُكُمْ إِلَهُ وَاحِد کہ تمہارا سب کا خدا ایک خدا ہے اور بشریت بھی ایک ہے خدا بھی ایک ہے مگر اس کو ملے گا جو خدا کی وحدت کو اپنا لباس ، اپنا اوڑھنا بچھونا ، اپنے وجود کا ایک نہ ٹوٹنے والا حصہ بنالے گا، اپنے مزاج میں داخل کرلے گا ، اپنے خون میں اسے سرایت کرے گا اپنی فطرت خدا کی وحدت کے مطابق ڈھالے گا جو پہلے ہی ڈھلی ہوئی ہے مگر از سر نو ا سے صیقل کرے گا ان صفات سے جو توحید باری تعالیٰ کے نتیجے میں لازماً انسان میں پیدا ہونی چاہئیں۔ یہ کیسے پیدا ہوسکتی ہیں؟ تبھی پیدا