خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 328 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 328

خطبات طاہر جلد 16 328 خطبہ جمعہ 9 مئی 1997ء بھی راز جس سے انسان کو اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہو سکے جس سے عرفان حاصل ہو سکے اپنی ذات کے لئے چھپا کے نہیں رکھا بلکہ جتنا پتا چلا اتنا ہی بلند آواز سے اعلان کیا ہے۔بے قراری پائی جاتی ہے، بے انتہاد کھ محسوس کرتے ہیں کہ کیوں نہیں دنیا سمجھ رہی۔میرے پاس وہ خزانہ ہے جس خزانے کا کوئی مقابلہ ہی نہیں جس کی کوئی مثال دنیا میں نہیں مل سکتی وہ میں بانٹ رہا ہوں اور لوگ نہیں لے رہے۔تو آنحضرت ﷺ نے ایک بھی راز ترقی کا ایسا نہیں جسے اپنے لئے بچا رکھا ہو یا اپنے خاندان کے لئے بچالیا ہو یا اپنے صحابہ اور عربوں کے لئے بچایا ہو۔تمام دنیا پر اور سارے راز ہمیشہ کے لئے کھول دیئے ہیں اور ساتھ اعلان کیا ہے کہ فلیبلغ الشاهد الغائب کہ جو جو بھی یہ باتیں سنے اس کو میر احکم ہے کہ آگے لوگوں تک پہنچاتا چلا جائے ایک ایسا اعلان ہے جو ہمیشہ جاری وساری رہے۔پس آنحضرت ﷺ نے جس عبادت کا حکم اللہ سے پایا اس عبادت کو درجہ معراج تک پہنچا دیا۔ایک معراج اس دنیا میں نیکیوں کا نصیب ہوا کرتا ہے اور میرا ایمان ہے اور ایک ذرہ بھی مجھے اس میں شک نہیں کہ آنحضرت ماہ کے معراج کا ان نیکیوں کے معراج سے تعلق ہے۔بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بے وجہ ہی عطا ہوگئی ہے۔کوئی عطا خدا کی طرف سے بے وجہ نہیں ہوا کرتی۔موہبت تو ہے لیکن موہبت پہلے اس طرح ہوتی ہے کہ کسی کو نیکی کی توفیق ملتی ہے پھر اسے اجر کی وجہ بنا دیا جاتا ہے۔تو آنحضرت ﷺ کی موہبت آپ کی پاک اور بے داغ فطرت میں تھی لیکن اللہ تعالیٰ کے انصاف کا عجیب مضمون ہے کہ ہر بچے کو بے داغ فطرت والا بتایا۔پس اس پہلو سے ہر شخص خداہی سے پاتا ہے تو پھر اسے ترقی نصیب ہوتی ہے مگر بعض لوگوں نے جو کچھ پایا اس کی پائی پائی کا حساب خدا کو دیتے ہیں اور جب وہ پائی پائی کا حساب دیتے ہیں تو پھر ایک موہبت کا نیا مضمون شروع ہو جاتا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ کی عطا اس طرح نازل ہوتی ہے کہ حساب تو پائی پائی کالیا لیکن دیا بے حساب۔پھر اس کے بعد جو عنایات ہیں وہ لامتناہی ہو جاتی ہیں۔پس آنحضرت ﷺ کا معراج اس دنیا میں ہر نیکی کا معراج تھا۔کوئی ایک بھی ایسی نیکی نہیں جو انسان سوچ سکتا ہے جس میں حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے تمام بنی نوع انسان ، تمام انبیاء کو پیچھے نہ چھوڑ دیا ہو۔اگر یہ میری بات درست نہ ہو تو پھر رسول اللہ الیہ کو اس معراج کا حق ہی کوئی نہیں کہ سارے انبیاء پیچھے رہ جاتے ہیں، جبرائیل بھی پیچھے رہ جاتے ہیں، اکیلے ہی آپ رفعتوں کے