خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 324
خطبات طاہر جلد 16 324 خطبہ جمعہ 9 مئی 1997ء ہے اس لئے نہ مرتے تب بھی تم اسی طرح زندہ رہتے جس طرح اب ہو۔یہ فتویٰ ہے خدا تعالیٰ کی طرف سے ایسے لوگوں کے حق میں کہ ان کو بلایا اس وقت جاتا ہے جب ان کی نیکیوں میں ایک دوام پیدا ہو جاتا ہے۔فتویٰ یہ ہے کہ خدا نے ان کو قبول فرمالیا اور اب تمہیں اس کی لامتناہی جزا دی جائے گی۔پس أَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ کا یہ موقع ہے یہاں یعنی دنیا کی حسنہ تو تسلی کی خاطر ہے، وہ بے چارے یہ نہ سمجھیں کہ مرنے کے بعد ہی اب ہمیں امن نصیب ہوگا۔فرمایا نہیں ہم تمہیں دنیا ہی میں حسنہ دے دیں گے۔اب یہ مضمون بظاہر اس مضمون سے کچھ ٹکراتا ہے جو میں نے ابھی بیان کیا کہ آخر دم تک صبر کیا اس لئے خدا تعالیٰ نے لامتناہی جزا دی لیکن جب دنیا میں حسنہ دے دی تو پھر آخر دم تک صبر کا کیا موقع رہا۔یہ مضمون بتا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ دنیا میں ان کے صبر کا امتحان لے کر ان کی زندگی ہی میں یہ فیصلہ فرما دیا کرتا ہے کہ تم پاس ہو گئے ہو۔اگر یہ فیصلہ زندگی میں نہ فرمایا ہوتا تو دنیا سے حسنہ شروع نہ ہوتی۔چنانچہ اس کی تائید میں جو میں نے آیات پڑھی ہیں ان میں یہی مضمون ہے۔فرشتے جو نازل ہوتے ہیں وہ کہتے ہیں۔نَحْنُ اَوْلِيَؤُكُمْ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَ فِي الْآخِرَةِ - وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِى كُنْتُمْ تُوعَدُونَ اس دنیا میں ہم جب تمہارے پاس آگئے ہیں اور نہیں چھوڑیں گے تو اب جنت کے متعلق تمہیں کیسے وہم ہو سکتا ہے کہ نہیں ملے گی۔لوگوں کے لئے تو مرنے کے بعد کی جنت ہے تمہارے لئے تو شروع ہو گئی۔ہم اس دنیا میں تمہارے ساتھ رہ کر ہمیشہ تمہاری حفاظت کرنے کے لئے مامور کر دئیے گئے ہیں۔تو حسنہ دنیا سے شروع ہوئی ہے اور یہ اعلان کر رہی ہے یہ حسنہ کہ تمہارا امتحان مرنے سے پہلے ہی مکمل ہو گیا۔مرنے سے پہلے ہی ہم تمہارے پاس ہونے کا اعلان کر رہے ہیں، خوشخبری ہو تمہیں کہ خدا کے حضور تم کامیاب ٹھہرے ہو۔اب موت تو ایک ضمنی سی بات ہے جب آئے، آجائے گی مگر تمہارا عرصہ امتحان نتیجے کے ساتھ ختم ہو گیا اور جب عرصہ امتحان ختم ہوا تو حسنہ شروع ہو جاتی ہے جو ایک طبعی بات ہے۔پس یہ دونوں آیات جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا الگ الگ پہلو سے ایک بات پیش کر رہی ہیں۔تصریف الآیات کا ایک عجیب مضمون ہے۔کس طرح پہلو بدل بدل کر ایک چیز دکھائی جا رہی ہے اور بات وہی ہے لیکن اس کے حسین رنگ مختلف صورت میں انسان کی نظر کے سامنے ابھرتے ہیں۔قُلْ إِنِّي أُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللهَ مُخْلِصًا لَهُ الدِّينَ۔جو صبر کا دوسرا اور اعلیٰ معنی