خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 323
خطبات طاہر جلد 16 323 خطبہ جمعہ 9 مئی 1997ء سے جو بیعت کرتے ہیں اس پر استقامت اختیار کریں۔یہ لفظ استقامت ان دوسری آیات میں بیان فرمایا گیا جو میں نے پڑھ کے سنائی ہیں اور یہ جو آیات جن کا میں ترجمہ کر رہا ہوں ان میں صبر کے ذریعے اس مضمون کو کھولا گیا ہے اور ہجرت کے ساتھ جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے صبر کے ساتھ اور ان حالات کے ساتھ ہجرت کا ایک تعلق ہے اور ہجرت کے ضمن میں اللہ تعالیٰ اللہ کی زمین وسیع ہے“ کی خوشخبریاں ضرور دیتا ہے۔ایک دوسرے موقع پر ان لوگوں کے لئے جو ہجرت نہیں کرتے اور یہ بہانہ رکھتے ہیں کہ ہم مجبور ہو گئے۔اللہ تعالیٰ ان کو متنبہ فرماتا ہے، کہتا ہے مجبور کیسے ہو گئے۔کیا زمین اللہ کی وسیع نہیں تھی۔ایسے موقع پر تمہیں ہجرت کر جانا چاہئے تھا۔پس یہ تین مضمون ، دنیا کی مصیبتوں کا نازل ہونا، خدا کے رستے سے ہٹانے کے لئے انسان کو تکلیفیں دے کر مجبور کرنا اور اس کے نتیجے میں یا ہجرت کرنا یا صبر کرنا یہ وہ مضامین ہیں جو ایک اور انداز میں ، نئے پہلو کے ساتھ یہ آیات ہمارے سامنے کھول رہی ہیں۔یہ جو اعتراض اٹھتا تھا یا بعض لوگوں کے ذہن میں ہے جس کی وجہ سے وہ ترجمہ میں آخرت کا وعدہ سمجھتے ہیں ، ذہن میں یہ اعتراض اٹھتا ہے کہ اگر صرف دنیا میں حسنہ کے لفظ کے بیان کو پیش نظر رکھے تو یوں معلوم ہوتا ہے گویا آخرت کا وعدہ دیا ہی نہیں جارہا مگر اسی آیت نے ختم ہونے سے پہلے پہلے وہ وعدہ کر بھی دیا۔اِنَّمَا يُوَفَّى الصّبِرُونَ أَجْرَهُم بِغَيْرِ حِسَابٍ یہ نہ سمجھ لینا کہ دنیا کی حسنہ دے کر تمہارا حساب چکا دیا جائے گا۔جو صبر کرنے والے ہیں ان کا اجر بغیر حساب ہے۔اب یہ بھی بہت ہی اہم مضمون ہے صبر کرنے والوں کا اجر بغیر حساب۔صبر انسان جن تکلیفوں پر کرتا ہے اگر وفا کے ساتھ آخر دم تک قائم رہے تب وہ صبر کہلائے گا ورنہ نہیں۔تو جب مرتے دم تک وہ باز نہیں آئے خدا سے وفا کرنے سے، جب وہ نیک اعمال سے پیچھے نہیں ہے تو ان کا مرنا ان کے اختیار میں تو نہیں ہے وہ زندگی اگر چلتی چلی جاتی تو ہمیشہ وہ صبر ہی کی حالت میں قائم رہتے۔پس جب خدا نے فیصلہ فرمایا کہ ان کی زندگی منقطع کی جائے تو عملاً یہ بھی فیصلہ کر دیا کہ ہم نے تمہیں آزما لیا تم واقعی صابر بندے ہو۔اگر تمہیں ہزار سال بھی ملتے تو اسی طرح تم رہتے اس لئے اب ہم تمہیں واپس بلاتے ہیں۔تمہارے امتحان کا دور ختم ہوا لیکن جزا کا دور لامتناہی ہے کیونکہ تمہاری وفا سے پتا چلتا ہے کہ تم ان نیکیوں پر دوام اختیار کر چکے تھے۔صبر نے تمہیں ایک ایسی ہمیشگی کی زندگی عطا کر دی تھی جو خدا کی نظر میں