خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 26 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 26

خطبات طاہر جلد 16 26 خطبہ جمعہ 10 /جنوری 1997ء عصمت رسالت کے لئے ہم سب کچھ قربان کر دیں گے تو اسلام تو ذبح کر بیٹھے ہو۔کس گلی میں تمہارا اسلام دکھائی دے رہا ہے۔ساری قوم بددیانت ہے۔تم اور بھی کھا کھا کے موٹے ہوئے چلے جارہے ہو اور یہ تمہاری اسلام کی محبت ہے۔اسلام کا پیچھا چھوڑو اور ملک کا پیچھا چھوڑو۔جو محضر نامہ پیش کیا گیا ہے ایک وزیر کے خلاف ایک جدو جہد کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان کے دشمن ، اور آغاز ہی سے دشمن ہیں اور پاکستان بننے کے بعد بھی دشمن رہے۔یہ وہ لوگ ہیں جو پاکستان کو پلیدستان لکھا کرتے تھے اور جب تک ان کا دخل نہیں ہوا پاکستان ، پاکستان ہی رہا ہے اب پلیدستان بنا ہے۔تو جو بدنامی کا موجب ہے اس کو پکڑتے نہیں اور جو حق کا اقرار کرتا ہے اس کے خلاف بول اٹھتے ہو۔وہ لوگ جو الزام لگارہے ہیں وزیر اعظم پر وہ یہ کیوں نہیں دیکھتے کہ پلیدستان بنا دیا گیا ہے اور اس مولوی نے پلیدستان بنایا ہے جو قائد اعظم کے خلاف پاکستان کے خلاف جدوجہد میں صف اول پہ تھا۔اور احمدیت پہ جھوٹا الزام کہ احمدیت پاکستان کے خلاف تھی۔کشمیر کی جدوجہد میں بھی لکھا گیا کہ احمدی اپنا دامن بچا گئے حالانکہ کشمیر کی جدو جہد کا آغاز ہی حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قیادت میں ہوا ہے اور ان کے اپنے کشمیری سچے راہنما لکھنے والے لکھ چکے ہیں کتابوں میں کہ اس آزادی کی مہم کی باگ ڈور مرزا بشیر الدین محمود احمد کے ہاتھ میں تھی۔پہلی آزادی کی مہم کی باگ ڈورکس کے ہاتھ میں تھی۔جماعت احمدیہ کے ہاتھ میں۔کس نے سپرد کی تھی۔تمہارے چہیتے اقبال نے خود ریزولیوشن پیش کیا۔ساری تاریخ کو مسخ کر کے ہر بات کا جھوٹ بنا دیتے ہیں۔اس لئے ان کے ساتھ بحثوں کا سوال ہی نہیں۔جس نے جھوٹ بولنا ہی بولنا ہے، جسے حیا کوئی نہیں ہے وہ بار بار بولتا ہے، مسلسل بولتا چلا جاتا ہے۔اس کے ساتھ اب گفتگو کا کون سا سوال باقی رہ جاتا ہے۔لیکن ہاں خدا کے حضور فریقین کو یہ التجا کرنی چاہئے کہ جو جھوٹا ہے اس پر لعنت ڈال۔پہلے مباہلے سے یہ اس طرح گریز کر گئے تھے کہ کہتے تھے کہ مباہلے کی شرطیں پوری نہیں ہور ہیں۔کوئی کہتا تھا سکتے میں آؤ اور وہاں جا کر آمنے سامنے سارے اکٹھے ہوں۔اب سارا عالم اسلام کیسے وہاں اکٹھا ہو جائے گا اور ساری جماعت احمد یہ وہاں کیسے اکٹھی ہو جائے گی۔کس کس کو تم لاؤ گے۔کون سا تمہارا اتفاق ہے۔فضول لغو باتیں اور مکے کی سرزمین کا ہونا کیوں ضروری ہے۔مباہلوں کے لئے تو کبھی بھی ایسی کسی ایک سرزمین کا انتخاب نہیں ہوا۔وہ جو مباہلے کا چیلنج تھا وہ تو مدینے میں ہوا تھا ویسے بھی مکے