خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 309
خطبات طاہر جلد 16 309 خطبہ جمعہ 2 رمئی 1997 ء اس کو اچانک دکھائی دے دیتے ہیں۔وہ کہتا ہے تم تو ایسے ہو تم تو ایسے ہو تم نے تو خواہ مخواہ دین کا لبادہ اوڑھا ہوا ہے۔تم نے میرا پیسہ کھا لیا ہے، تم نے مجھ سے دھو کہ کیا تم نے مجھ سے نا انصافی کا سلوک کیا۔سارے عیوب اس کے اچانک دکھائی دینے لگتے ہیں اور دراصل یہ بھی اس کی اپنی غفلت ہی کی حالت ہے جسکی نشان دہی ہورہی ہے۔ایک انسان اگر ان کو عیوب سمجھتا ہے تو اپنے تعلقات میں پہلے کیوں ان کی طرف اس نے توجہ نہ کی۔ایک آدمی نیک ہوتے ہوئے بھی اگر بد تھا تو اس کو اس نے برداشت کیا، اس کی پرواہ بھی نہیں تھی اس کو لیکن جب اپنے معاملے میں بد ہوا تب ہوش آئی۔تو دوسروں کی بدی دیکھنے کے لئے تو انسان کو اس طرح ہوش آتی ہے کہ وہ بدی اس کے خلاف کام کرے اور اگر اس کے خلاف کام نہ کرے تو ساری دنیا کے خلاف کام کرتی پھرے اسے کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔ایک آدمی دوسروں سے بدتمیزی کرتا ہے، لفنگے بازی کرتا ہے ، شرارتیں، فساد اور پھر بھی بعض مجلسوں میں بیٹھا رہتا ہے اور قبول رہتا ہے اور جب اپنے خلاف کام کرے تو اچانک انسان اس کو دھتکار کر اپنی چوکھٹ سے دور کر دیتا ہے یا دور کرنے کی کوشش کرتا ہے۔تو یہ جو غفلتوں کی حالتیں ہیں یہ اپنی ذات سے بھی تعلق رکھتی ہیں اور دوسروں کی ذات سے بھی تعلق رکھتی ہیں اور ایک لازمی جاری سلسلہ ہے۔ایک تو موت کے پہلو سے جلدی ہے دوسری صدی کے لحاظ سے مجھے بہت جلدی ہے اور میں اس معاملے میں سخت بے قرار ہوں کہ کسی طرح جماعت اٹھ کھڑی ہو، بیدار ہو جائے کیوں کہ ہماری صدی گزرنے میں بہت تھوڑ ا وقت باقی ہے اور ایسی نئی صدی میں ہم نے داخل ہونا ہے جب کہ ساری دنیا کی ذمہ داریاں ہم پر پہلے سے بہت زیادہ ڈالی جائیں گی اور یہ ذمہ داریاں کئی طرح سے پہلے سے زیادہ ہوں گی اول یہ کہ ہر صدی کے موڑ پر خدا تعالیٰ نے ایک انقلاب بر پا کر رکھا ہے۔وہ انقلاب تو نظر آتا دکھائی دے رہا ہے۔اس انقلاب کے تقاضے ہیں جو ہم نے پورے کرنے ہیں اور جو خدا تعالیٰ نے اسلام کی تائید میں ہوائیں چلائی ہیں ان سے پورا فائدہ اٹھانا ہے، اپنی صلاحیتوں کے بادبان کھولنے ہیں، ان کا رخ ایسا کرنا ہے کہ وہ ہوا ئیں ان میں بھر کر انہیں بڑی تیزی سے آگے بڑھائیں اور اس صدی کے اختتام میں تین سال بمشکل باقی ہیں۔اس لئے ایک تو یہ فکر کی بات ہے کہ ہم اس صدی کے اختتام تک کیا واقعی نئی آنے والی ذمہ داریوں کے