خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 307 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 307

خطبات طاہر جلد 16 307 خطبہ جمعہ 2 رمئی 1997ء ہے۔یہ معمولی بات نہیں ہے۔اخلاق باخدا ہونے کیلئے بنیادی شرط ہے اس کے بغیر انسان خدا والا ہو نہیں سکتا اور دوسری بنیادی شرط یہ ہے کہ جو خدا والا ہو وہ لا زمابا اخلاق ہو جاتا ہے کیونکہ خداوالا کون ہوگا؟ قرآن کریم کی اس آیت نے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہاں لکھی اور جس کی تشریح سے متعلق میں اب آپ سے مخاطب ہوں متطھرین کو بیان کیا ہے کہ اللہ ان سے محبت کرتا ہے۔تو متطھرین تو وہ ہیں جو ہر عیب سے ہمہ وقت پاک ہونے کے لئے کوشش کرتے رہتے ہیں اور جب ہر عیب سے ہمہ وقت پاک ہو نیکی کوشش کرتے ہیں تو خدا تعالیٰ کے قریب تر ہو جاتے ہیں کیونکہ خدا ہی کی صفت ہے کہ وہ ہر عیب سے پاک ہے۔پس مرکزی نکتہ اس آیت کے پیغام کا یہی ہے کہ جو اللہ جیسا ہونے کی کوشش کرتے ہیں، متطهرين کا مطلب ہے کیونکہ پاک صرف اللہ کی ذات ہے اس لئے جو متطھر ہے وہ خدا کی صفات اپنانے کی کوشش کرتا ہے اور جب خدا کی صفات اپنا لیتا ہے تو دنیا کے لحاظ سے بھی ایک کامل با اخلاق انسان بن کر واپس دنیا کی طرف لوٹتا ہے۔یہ ناممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفات اپنا کر وہ دنیا کی طرف لوٹے اور بداخلاق ہو۔پس دونوں پہلوؤں سے ایک انسان اپنے نفس کو پہچان سکتا ہے اور یہ جو پہچاننے کا وقت ہے اس کی طرف میں آپ کو متوجہ کر رہا ہوں کہ کوئی لمبا وقت نہیں ہے، زندگی کا کوئی اعتبار نہیں، ہمہ وقت موت سر پر ٹکی رہتی ہے۔بہت سے ایسے ہیں جو شادیوں میں شرکت کے لئے جاتے ہیں اور پہنچنے سے پہلے حادثات کا شکار ہو جاتے ہیں۔بعض کو اندر اندر بیماریاں کھا رہی ہیں اور پتا اس وقت چلتا ہے جب کہ بیماری گھیرا ڈال لیتی ہے اور بیچنے کی کوئی صورت دکھائی نہیں دیتی۔تو ایسے حالات میں جب انسان کو خود اپنی موت کا کچھ پتا نہیں کہ کب آئے اور کہاں سے آئے وہ ایسا مطمئن ہو کہ اپنے جاگنے کی فکر ہی کوئی نہ کرے بلکہ آنکھ کھلے تو پھر سو جائے پھر کبھی کوئی وقت کی آواز اسے جگائے تو پھر سو جائے ایسے انسانوں کی موت نیند ہی کی حالت میں ہو جاتی ہے اور ان پر قرآن کریم کی وہ آیت صادق آتی ہے کہ خدا تعالیٰ جب کسی انسان کو وفات دیتا ہے تو ایک تو نیند کی حالت ہے جس میں اس کی روح کو قبض کرتا ہے لیکن پھر اسے واپس کر دیتا ہے اور کچھ ایسے ہیں جو نیند ہی کی حالت میں کھینچ لئے جاتے ہیں اور پھر ان کی واپسی کوئی واپسی نہیں ہوتی ، پس اسی کا نام موت ہے۔دو نیند اور موت کی باتیں قرآن کریم نے کی ہیں اس کو ہم عام طور پر ظاہری معنوں میں