خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 300 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 300

خطبات طاہر جلد 16 300 خطبہ جمعہ 2 رمئی 1997 ء اور ایک وہ ضرورت ہے جو تمام عالم میں ہر جماعت کی ایک ہی ضرورت ہے یعنی تربیت اور انسان کو پہلے سے بہتر حال میں ہمیشہ اس طرح آگے بڑھاتے چلے جانا کہ اس کا رخ خدا ہی کی طرف ہو اور غیر اللہ کی تمام طاقتوں سے وہ دور ہٹتا چلا جائے اور اللہ کے قریب ہوتا چلا جائے ۔ یہ بنیادی پیغام ہے ہر مذہب کا جو سب سے زیادہ وضاحت اور قوت کے ساتھ اسلام نے پیش فرمایا اور یہ احمدیت کی بنیادی ضرورت ہے جو ہر ملک میں یکساں ہے اور اس تربیت کی ضرورت کے ساتھ ساتھ ہی بلکہ اس سے تعلق رکھنے والی تبلیغی ضرورت ہے کیونکہ یہی تربیت جب غیروں کی طرف رخ کرتی ہے تو اسی کا نام تبلیغ ہو جاتا ہے ورنہ حقیقت میں تو بنیادی روح ہر مذہب کی تربیت ہی ہے یعنی ہر انسان کی اصلاح کرنا۔ پس اس پہلو سے جو توبہ کا مضمون میں نے شروع کیا تھا اسی مضمون کے تعلق میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک اور اقتباس میں آج آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں ۔حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: تو بہ کرنے والا گنہگار جو پہلے خدا تعالیٰ سے دور اور اس کے غضب کا نشانہ بنا ہوا تھا اب اس کے فضل سے اس کے قریب ہوتا اور جہنم اور عذاب سے دور کیا جاتا ہے۔“ (یہ وہی بات ہے جو خلاصہ میں نے آپ کے سامنے رکھی کہ ہر مذہب کا بنیادی مقصد ہے۔ ) ” اب اس کے فضل سے اس کے قریب ہوتا (یعنی اللہ کے ) اور جہنم اور عذاب سے دور کیا جاتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ (البقرة: 223) “ یقیناً اللہ تعالیٰ تو بہ کرنے والوں سے محبت کرتا ہے وَ يُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ اور جو نیکی چاہتے ہیں جو پاکیزہ ہونا چاہتے ہیں ان سے بھی محبت رکھتا ہے۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس آیت کا خود بھی ترجمہ فرمایا ہے جو میں پڑھ کے سناتا ہوں ۔ ”بے شک اللہ تعالیٰ تو بہ کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے اور ان لوگوں سے جو پاکیزگی کے خواہاں ہیں پیار کرتا ہے۔اس آیت سے نہ صرف یہی پایا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تو بہ کرنے والوں کو اپنا محبوب بنا بنالیتا لیتا ہے۔“ یعنی دوست رکھتا ہے کا ترجمہ خود محبوب بنا لیتا ہے بھی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ