خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 291
خطبات طاہر جلد 16 291 خطبہ جمعہ 25 اپریل 1997ء کراہت کے ساتھ اس سے دور ہے جیسا کہ انسان کسی گندگی کو دیکھتا ہے تو رستے میں چلتے ہوئے دکھائی دے تو انسان قدم بچا کر، ذرا ہٹا کر رکھتا ہے اس کے قریب بھی پاؤں نہیں لاتا تو کیسے ممکن ہے کہ جس چیز کے قریب پاؤں کالا نا برداشت نہ ہو اس میں انسان منہ مار دے اور اس غلاظت کو کھانے لگے۔پس کیسی عمدگی سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے گناہ کی نفرت کا مضمون بیان فرمایا۔فرمایا لیکن یہ نفرت ممکن نہیں ہے جب تک دعا نہ ہو۔پس دعا کے ذریعے مدد مانگنا لازم ہے مگر جس چیز کی دعا مانگی جائے اس کے لئے کوشش کرنا اور اس سمت میں قدم اٹھانا یہ بھی دعا کی قبولیت کے لئے لازم ہے ورنہ وہ دعا قبول ہی نہیں ہو گی۔فرماتے ہیں کثرت گناہ کی وجہ سے دعا میں کوتاہی نہ ہو۔اب یہ بھی ایک بہت اہم مضمون ہے کہ بعض دفعہ دعا میں کوتا ہی مایوسی کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہے۔انسان سمجھتا ہے کہ میں اتنے گناہوں میں ملوث ہو چکا ہوں کہ اب مجھے بھلا کیا تو فیق ملے گی کہ میں اپنی صفائی کروں اور عمر کا بھی کوئی پتا نہیں کس وقت زندگی ختم ہو جائے۔تو گناہوں کی کثرت بھی انسان کو دعا سے غافل کر دیتی ہے اس وجہ سے کہ شاید گناہ بہت بڑھ چکے ہیں اور گناہوں کے ہٹنے کے لئے دعا کرتا اور گناہوں کا باقی رکھنا اس مایوسی کو مزید بڑھاتا چلا جاتا ہے۔کئی لوگ کہتے ہیں جی ہم نے بڑی دعا کی ہے نماز میں توجہ پیدا ہو مگر نہیں ہوئی اب رفتہ رفتہ دل ہی اچاٹ ہو گیا ہے۔ایسے لوگوں کو بیماریاں کئی قسموں کی ہیں جو ان کے اندر یہ غلط خیال پیدا کرتی ہیں لیکن اس وقت ان کی تفصیل میں جانے کا وقت نہیں ہے کیونکہ ایک اور مضمون شروع ہو جائے گا اس لئے میں آپ کو صرف اتنا سمجھانا چاہتا ہوں کہ یہ جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کثرت گناہ کی وجہ سے دعا میں کو تا ہی نہ ہو۔اس کو آپ حرز جان بنالیں اور دعا کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتے رہیں پھر انشاء اللہ آپ کے اندر وہ اصلاح کا دور شروع ہو جائے گا جو گناہوں کی مغفرت کا سامان کرے گا اور بدیوں کے دور کرنے کا۔فرماتے ہیں: گناہ کرنے والا اپنے گناہوں کی کثرت وغیرہ کا خیال کر کے دعا سے ہرگز باز نہ رہے۔دعا تریاق ہے۔آخر دعاؤں سے دیکھ لے گا کہ گناہ اسے کیسا برا لگنے لگا۔( ملفوظات جلد 1 صفحہ 3) اب یہ بھی حکمت کی بات ہے۔حکمت کی تو سب باتیں ہیں مگر ایک ایسی حکمت کی بات ہے