خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 287 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 287

خطبات طاہر جلد 16 287 خطبہ جمعہ 25 اپریل 1997ء دعا سکھائی، جب نصیحت فرمائی کہ نیکیوں کے ذریعے بدیوں کو دور کر و تو ہر لمحہ اپنا جائزہ لینا لازم ہے اور دیکھتے رہنا چاہئے کہ کون سی بدیاں ہم نے کس حسن کے ذریعے دور کی ہیں۔یہ جو عمل ہے یہ لحہ لحہ کا عمل ہے۔یہ روز مرہ کا ایسا حساب نہیں کہ جیسے بھی کھاتے بند کرنے سے پہلے جوتا جر ہیں وہ بیٹھے اپنی دوکانوں میں حساب کر رہے ہوتے ہیں۔یہ اور طرح کا حساب ہے جو لازماً جاری و ساری حساب ہے۔وَاللهُ سَرِيعُ الْحِسَابِ کے مضمون سے اس کا تعلق ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک اقتباس آپ کے سامنے رکھتا ہوں اور کوشش کروں گا کہ جس طرح بھی ممکن ہو اس کا گہرا فلسفہ آپ کو سمجھاؤں۔فرمایا اعمل ما شئت فقد غفرت لک یہ جو کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اپنے بعض بندوں سے کہ اعمل ما شئت “ جو چاہے کراب کھلی چھٹی ہے فــقد غفرت لک پس میں تجھے بخش چکا ہوں۔پس جب میں نے بخش دیا تو پھر حساب کتاب کا کیا سلسلہ رہا اب تجھے چھٹی ہے جو چاہے کرتا پھرے۔فرمایا اس کا مطلب سمجھو، غور کر و تو پھر تمہیں سمجھ آئے گی کہ یہ گناہوں کی چھٹی نہیں ہے جیسا کہ بعض جاہل سمجھتے ہیں۔فرمایا: حدیث میں آیا ہے کہ جب انسان بار بار رو رو کر اللہ سے بخشش چاہتا وو ہے تو آخر کا رخدا کہ دیتا ہے کہ ہم نے تجھ کو بخش دیا۔اب تیرا جو جی چاہے سوکر۔اس کے یہ معنے ہیں کہ اس کے دل کو بدل دیا اور اب گناہ اسے بالطبع برا معلوم ہوگا جیسے بھیٹر کو میلا کھاتے دیکھ کر کوئی دوسرا حرص نہیں کرتا کہ وہ بھی کھاوے۔“ یعنی بھیٹر جب گندگی پہ منہ مارتی ہے تو ایک نیک طبع انسان جو اپنی بدیوں سے نجات پاچکا ہو، گندی عادتیں اس سے نکال کر باہر پھینک دی گئی ہوں تو جو گندگی اس سے نکال کر باہر پھینکی گئی ہے اس سے محبت تو نہیں رہتی بلکہ بری لگنے لگتی ہے۔فرمایا اسی طرح خواہ ایک انسان بھوکا بھی ہوا گر بھیٹر کو گندگی کھاتے دیکھے گا تو اس کا دل نہیں چاہے گا کہ اس گندگی پہ وہ بھی منہ مارے بلکہ اور کراہت محسوس کرے گا تو اعمل ما شئت کا یہ مطلب ہے۔فرماتے ہیں: اور اب گناہ اسے بالطبع برا معلوم ہوگا جیسے بھیڑ کو میلا کھاتے دیکھ کر کوئی دوسرا حرص نہیں کرتا کہ وہ بھی کھاوے اسی طرح وہ انسان بھی گناہ نہ کرے گا جسے خدا نے بخش دیا ہے۔(ملفوظات جلد نمبر 1 صفحہ 3)