خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 284
خطبات طاہر جلد 16 284 خطبہ جمعہ 25 اپریل 1997 ء اپنے وجود سے نوچ کر پھینک دو سوائے اس کے کہ ان سے بہترین عادتیں ان کی جگہ لینے کے لئے موجود ہوں۔پس حسن بدی کو دھکیل کے باہر کرتا ہے جیسے نور اندھیروں کو دھکیل کے باہر کر دیتا ہے۔خالی اندھیروں کو دور کر ناممکن ہی نہیں عقل کے خلاف بات ہے۔پس قرآن ایک ایسی اعلیٰ حکمت کی کتاب ہے جو انسانی فطرت کی پاتال تک نظر رکھتا ہے اور کوئی بھی حقیقی تعلیم ایسی نہیں ہے جس پر عمل کر ناممکن نہ ہو۔پس سیئات کو دور کرنے کی تعلیم فی ذاتہ ایک کھوکھلی تعلیم ہے اگر قرآنی آیات کی روشنی میں حسن کے ذریعے بدی کو دور کرنے کی کوشش نہ کی جائے۔پس جب بہتر عادتیں بعض بری عادتوں کی جگہ لیں گی تو یہ يَزِيدُهُمْ مِنْ فَضْلِهِ کا مضمون ہے۔اللہ تعالیٰ پھر ان کو بڑھائے گا اپنے فضل کے ساتھ اور جو بہتر عادتین ان کو عطا ہوں گی وہ باقی رہنے والی ہوں گی اور دائی ہو جائیں گی وہ وفا کرنے والی عادتیں ہونگی جو ان کو چھوڑ کر جائیں گی نہیں کیونکہ نیکی کے مضمون کے ساتھ اس کا باقی رہنے کا مضمون بھی قرآن کریم نے ہر جگہ بیان فرمایا ہے اور پھر ان میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا یعنی جوں جوں بدیاں جھڑیں گی حسن میں اضافہ ہوگا اور جب حسن میں اضافہ ہوگا تو تمہاری طاقت میں بھی اضافہ ہوگا۔تمہارے جیسے اور لوگ تمہارے ساتھ پیدا ہونے لگیں گے۔یہ وہ پہلو ہے جس کے تعلق میں میں ایک دفعہ پھر آپ کو دعوت الی اللہ کا مضمون یاد کراتا ہوں۔بہت سے احمدی ہیں جو دعوت الی اللہ میں مصروف ہیں ، پوری کوشش کرتے ہیں لیکن آخر پر شکوہ یہ رہ جاتا ہے کہ ہم نے تو سب کچھ کر دیا مگر اوپر سے پھل نہیں مل رہے گویا او پر ہی کا قصور ہے۔حالانکہ اگر پھل نہیں مل رہے تو نیچے کا قصور ہے بعض دفعہ جڑوں کی بیماری ہے جو حائل ہو جاتی ہے پھلوں کی راہ میں اور آسمان تو بارشیں برساتا ہے ، فضا تو ضرورت کی گیسیں مہیا کرتی رہتی ہے مگر پھل اس لئے نہیں لگتے کہ جڑیں بیمار ہیں۔پس كَفِّرْ عَنَّا سَيَّاتِنَا کا مضمون تبلیغ کے لئے بھی نہایت ضروری ہے۔یہ دعا ساتھ ہو اور اس کے بعد پھر انسان اپنے حسن کے ذریعے اپنی بدیوں کو دور کرتا چلا جائے اور جب آپ کا حسن آپ کی بدیوں کو نکال باہر کرنے پر مجبور کر دے یعنی نیا اختیار کردہ حسن جو قرآن اور رسول اللہ ﷺ کے اسوہ سے آپ سیکھیں گے تو پھر ایسے وجود کا بڑھنا اور نشو و نما ایک طبعی قدرتی عمل ہے جس کو کوئی روک نہیں سکتا۔