خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 275
خطبات طاہر جلد 16 275 خطبہ جمعہ 11 اپریل 1997ء نہ کوئی حیثیت، ایک چپڑاسی کے طور پر میں تحصیل میں ملازم ہوا اور اس زمانے میں تحصیلدار کے طور پر ریٹائر ہوئے ہیں۔آدمی سوچ بھی نہیں سکتا ایک ادنی چپڑ اسی ترقی کرتے ہوئے اپنے سارے تعلیم یافتہ اور بڑے بڑے عالم فاضل ساتھیوں کو چھوڑ کر اور ایسا تحصیل دار بن جائے جس کا رعب تمام اس علاقے میں اس طرح ہو جیسا پہلے کبھی کسی کا نہیں ہوا تھا اور یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی برکت سے کہتے تھے ہوا ہے۔اس کا ثبوت کیا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان کے اندر جو تو کل پیدا کیا اور جو نیکی اور انصاف پیدا کیا وہ دکھائی دینے لگا تھا۔جیسے میں نے بتایا یہ چیزیں دکھائی دیتی ہیں پھر۔اس زمانے کے انگریز افسر بڑے رعب دار بھی ہوا کرتے تھے لیکن ذہین بھی تھے اور صلاحیتوں کو پہچانتے بھی تھے۔جس افسر کے ساتھ انہوں نے کام کیا وہ حیران رہ گیا دیکھ کر یہ عام آدمی تو نہیں یہ تو کوئی مختلف چیز ہے۔کوئی حرص نہیں ہے، کوئی پرواہ نہیں، سادہ دو کپڑوں میں ملبوس ، دو روٹیاں کھا تا اور باقی سب پیسے بچا بچا کے نیکی کے کاموں پر لگا رہا ہے۔تو اس کا یہ اثر تھا کہ وہاں کا جو سب سے بڑا انگریز افسر جس کی کوئی بھی، جو بھی اس وقت حیثیت تھی جس کے اختیار میں تھا، اس کی ان پر نظر پڑی۔اس نے دیکھا یہ تو ایک ہیرا ہے اور اس نے پھر ان کو ترقی دینا شروع کی اور پھر پیچھے جاجا کے دیکھا بھی کرتا تھا کہ دیکھیں کیا کر رہا ہے۔پس جب تحصیلدار بنادیا تو بعد میں اس علاقے کے دورے پر ہر جگہ گیا تو لوگوں سے پوچھا یہ کیسا تحصیلدار ہے تمہارا۔انہوں نے کہا تحصیلدار کیا ہے یہ تو ہماری ماں ہے، ہمارا باپ ہے، ہمارا سب کچھ ہے۔اس جیسا انسان تو ہم نے دیکھاہی کبھی نہیں۔چنانچہ بڑے فخر کے ساتھ اس نے اس بات کا ذکر تحریر میں کیا ہے۔اس نے کہا انسانی قدریں یہ ہوں تو ایسی ہوں پھر اور حضرت منشی اروڑے خان جانتے تھے کہ میں کیسے بنا۔مجھے تو مسیح موعود کی ایک نظر نے انسان بنا دیا ہے۔تو جب خدا کے پاک بندوں کی نظریں انسان بنایا کرتی ہیں تو اس طرح بناتی ہیں۔لمبی محنت اور قربانیوں کے دور سے گزرتے ہو تو پھر باخدا انسان بنا کرتے ہو۔آنا فانا یہ معجزے نہ دیکھو نہ ویسے ہوا کرتے ہیں لیکن آنافا نا انقلاب کے فیصلے ضرور ہو جاتے ہیں۔جب بھی آپ نے فیصلہ کر لیا کہ استغفار کی اس راہ پر قدم رکھنا ہے جو بالآخر سلفیہ کے وعدے تک پہنچتی ہے اسی وقت اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں آپ کا ہاتھ آجائے گا۔آپ کا ہاتھ اللہ کے ہاتھ میں آجائے گا اور یہ سفر انشاء اللہ کا میابی کے ساتھ طے ہوگا۔