خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 267
خطبات طاہر جلد 16 267 خطبہ جمعہ 11 را پریل 1997ء اس بات کی ضامن ہے فَمُلقِیهِ کہ تو اس رب کو ضرور ملے گا۔پس لقاء باری تعالیٰ کا انعام ہے جو آخری صورت میں گناہ کے ردعمل کے طور پر عطا ہونا شروع ہوتا ہے اور جب یہ مضمون ردعمل کا آگے بڑھتا ہے تو پھر محض گناہ سے بچنے کا مقصد اپنی ذات میں مقصد نہیں رہتا بلکہ اس ذات سے تعلق مقصد بن جاتا ہے جس کے سہارے انسان گناہ سے بچتا ہے۔شعور بیدار ہوتا دیکھتا ہے اور ہواصل تو یہ ہے تو نیچے جھانک کر اگر پہاڑ پر سفر کرتے ہوئے آپ کھڈ سے بچنے کے لئے ایک احتیاط کرتے ہیں یا دل میں خوف پیدا ہوتا ہے میں گر نہ جاؤں تو محض وہ خوف اپنی ذات میں مقصود نہیں ہے۔اس خوف سے بیچ کر آگے بڑھنے کی جو تمنا پیدا ہوتی ہے، مزید بلندیاں حاصل کرنے کی تمنا پیدا ہوتی ہے وہ مقصود بالذات ہے۔پس گرنے کا خوف دراصل وہ گناہ ہے جس کو پیدا کرنا انسان کی ترقیات کے لئے لازم تھا، گر جانا مقصود نہیں تھا۔پس لوگ جو یہ خیال کر لیتے ہیں کہ گناہ کی خاطر جب گناہ کی اتنی اہمیت ہے تو چلو گرتے ہیں پھر۔ان کو یہ نہیں پتا کہ بعض دفعہ گریں گے تو پھر اٹھنے کے قابل بھی نہیں رہیں گے۔ہاں ٹھوکریں کھانا ، وہ گرنانہیں ہے، یہ بے اختیاری کے قصے بھی ہیں اور ان باتوں میں اللہ تعالیٰ حفاظت فرماتا ہے اور وعدہ فرماتا ہے کہ تم بچو اور تو بہ کرو تو یہ ٹھوکریں ہیں رستے کی اور روزمرہ کی جو طبعی بے اختیاریاں ہیں جن کے نتیجے میں تمہیں کچھ نہ کچھ گناہ میں ملوث ہونا ہی پڑتا ہے اس کا میں وعدہ کرتا ہوں ، پھر اس سے میں صرف نظر فرماؤں گا یعنی ان کے نقصانات سے تمہیں بچالوں گا۔پس یہ وہ مضمون ہے جو اس آیت کریمہ میں بیان ہوا جس کی تلاوت میں نے آپ کے سامنے کی۔وَهُوَ الَّذِي يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ وَيَعْفُوا عَنِ السَّيِّاتِ۔اب اس کا یہ ترجمہ عموماً رائج ہے اور بعض پہلوؤں سے اسے درست قرار دیا جا سکتا ہے مگر میرے نزدیک دراصل یہ ترجمہ یہاں درست نہیں ہے۔اگر اس Context میں، یعنی ان معنوں میں درست نہیں جن معنوں میں میں بات بیان کر رہا ہوں اگر اس مضمون سے اس آیت کا مطالعہ کریں تو پھر وہ ترجمہ نا کافی ہوگا کچھ اور ترجمہ چاہئے ایسا ترجمہ جوعربی کے لحاظ سے بالکل درست ہو لیکن اس مضمون کا حق ادا کرنے والا ہو جو گناہوں سے بچنے کے نتیجے میں لامتناہی، ہمیشہ کی ترقیات کا مضمون ہے اور وہ بنے گا پھر وَهُوَ الَّذِي يَقْبَلُ التوبة وہ تو بہ کو قبول کر لیتا ہے عَنْ عِبَادِہ اپنے بچے بندوں سے جو اس کے عبد بن جاتے ہیں۔