خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 255 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 255

خطبات طاہر جلد 16 255 خطبہ جمعہ 4 را پریل 1997ء کر دیتا ہے، اس کے خطوات پر چلنے لگتا ہے۔پھر رفتہ رفتہ وہ آوازیں مرگئیں، وہ درد کے احساس مٹ گئے اور یہ وہ مرض ہے جو پھر انسان جو ہے پتھر کا ہو جاتا ہے۔پھر نہ سنتا ہے نہ اس کو کوئی احساس رہتا ہے۔پس ضمیر کے پتھر ہونے کا مطلب بھی یہی ہے کہ وہ احساسات سے عاری ہو جاتا ہے۔اور قرآن کریم نے جو فرمایا کہ جہنم میں جہنم کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے تو وہاں بھی یہی پتھر ہونگے۔انسان تو وہ ہیں جن کے اندر کچھ انسانیت کا غلبہ باقی تھا۔پس وہ سزا سے بچیں گے تو نہیں لیکن اس سے بڑھ کر گنہ گار ایسے بھی ہیں جو پتھر ہو چکے تھے اور بڑی بھاری تعداد ہے ایسے پتھروں کی آج کی دنیا میں جن کے متعلق قرآن کریم فرماتا ہے ان کا جہنم کا ایندھن بننالا زمی اور یقینی ہے۔تو ان باتوں کو سمجھتے ہوئے استغفار کی طرف قدم بڑھانا ضروری ہے اور استغفار کو اس کی باریکیوں کے ساتھ سمجھنا ضروری ہے۔اس سلسلے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعض اقتباسات میں آج شروع کروں گا اور انشاء اللہ آئندہ خطبے میں بھی جاری رکھوں گا۔تو بہ کی حقیقت یہ ملفوظات جلد نمبر 1 صفحہ 3 سے عبارت لی گئی ہے کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک مجلس میں فرمایا : گناہ کی یہ حقیقت نہیں ہے کہ اللہ گناہ کو پیدا کرے اور پھر ہزاروں 66 برس کے بعد گناہ کی معافی سوجھے۔“ یعنی ایک فقرے میں عیسائیت کی عمارت کلی منہدم کر دی گئی۔ایک ہی فقرہ ہے لیکن ساری عیسائیت کی عمارت خاک میں ملا دی گئی۔ان کا تصور یہ ہے کہ آدم کو تو پیدا کیا تھا خدا نے مگر گناہ کا حقیقی علاج مسیح کو بتایا اور اس تمام عرصے میں مسیح کی آمد سے پہلے پہلے گناہ کا حقیقی علاج ہو ہی نہیں سکتا تھا۔تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: گناہ کی یہ حقیقت نہیں ہے کہ اللہ گناہ کو پیدا کرے اور پھر ہزاروں برس کے بعد گناہ کی معافی سوجھے اچھا اب معاف بھی تو کرنا ہے، کیا کریں ان سے۔پھر وہ مسیح کو پیدا کر دیا۔آپ نے بھی قانون قدرت کا حوالہ دیا ہے۔جیسا کہ میں نے آپ سے گزارش کی تھی کہ جو چیز میں دکھائی دیں وہ جو خدا نے پیدا کی ہوں اور خدا کے بنائے ہوئے قوانین ہوں ان کو آپ سمجھیں تو جو قانون نظر سے اوجھل