خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 256 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 256

خطبات طاہر جلد 16 256 خطبہ جمعہ 4 اپریل 1997ء ہیں وہ بھی سمجھ آجائیں گے۔یہی طریق اختیار کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ جیسے مکھی کے دو پر ہیں ایک میں شفا اور دوسرے میں زہر بیک وقت موجود ہیں۔یہ نہیں کہ زہر پیدا کیا اورمکھی کے شفا کا پر بعد میں پیدا ہوا۔صلى الله اور یہ جو عادت ہے لکھی کی آنحضرت مہ نے بیان فرمائی کہ کبھی جب بھی گرتی ہے بائیں طرف گرتی ہے اور بائیں طرف گرنے سے ایک بات تو یہ پیدا ہوتی ہے کہ چونکہ وہ گند کھاتی ہے اس لئے بایاں پر گند میں مبتلا ہوگا اور جراثیم لپٹیں گے تو بائیں پر سے لپیٹیں گے۔جب بیٹھ کے جھکے گی ایک طرف تو بائیں طرف جھکے گی۔دودھ میں گرتی ہے تو بائیں پر کے ساتھ گرتی ہے جب آپ دیکھیں گے تو ٹیڑھی اس کو تیرتا ہوا دیکھیں گے۔فرمایا اس کا دایاں پر بھی ڈبو دو اس میں شفا ہے۔تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اسی حدیث کی طرف اشارہ فرمارہے ہیں۔اسی کا حوالہ دے رہے ہیں کہ مکھی کے اندر جہاں زہر پیدا فرمایا گیا، شفا بھی ساتھ ہی پیدا فرما دی گئی اور یہ ہمیشہ سے اسی طرح ہے۔نہ کبھی کی عادت بدلی نہ یہ مضمون تبدیل ہوا یہ تو اسی طرح چلا آ رہا ہے۔صرف یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ شفا کیسے ہوگئی۔یہ وہم تو نہیں کہیں کہ دوسرے پر میں شفا ہے۔یہ وہ مضمون ہے جس کو کم سے کم ہو میو پیتھ تو ضرور سمجھ سکتے ہیں کیونکہ انسانی رد عمل ایک طبعی امر ہے۔کم سے کم میں نے کہا تھاورنہ سارے اہل علم ضرور سمجھ سکتے ہیں۔مگر ہو میو پیتھ کے لئے تو مفر ہی کو ئی نہیں اس کو سمجھے بغیر، اس کو مانے بغیر اس کا علم ہی باطل ہو جائے گا۔ہر وہ وجود جس کے اندر کوئی زہر حملہ آور ہو اس کے خلاف ایک رد عمل اس میں پیدا ہوتا ہے اور مدافعت کی ایک طاقت پیدا ہوتی ہے۔پس اگر ایک پر اونچار کھتی ہے مکھی اور دوسرا گرتا ہے گندگی میں تو وہ پر جو ہمیشہ الگ رہا ہے اس میں مدافعت کی طاقت پیدا ہو جائے گی۔اب یہ وہ مضمون ہے جس کو احمدی سائنس دانوں کو دیکھ کر، گہرائی میں اتر کر حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کی صداقت کے نشان کے طور پر پیش کرنا چاہئے۔مگر مسلمانوں میں یہ عادت ہے کہ کام ان کے اور وہ بھی غیر کریں۔صداقت اسلام ثابت کرنی ہے تو غیروں کے پاس جاؤ ، اپنے جھٹلانے پر ہی لگے رہیں۔ایسے ایسے جاہلانہ تصور باندھیں کہ جو مومن ہو وہ بھی کافر ہو جائے اس لئے اب اسے دور کرلو۔اب احمدیت کا دور ہے۔اب ہمیں تحقیقات خود کر کے دنیا کے سامنے وہ حقائق پیش کرنے