خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 248 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 248

خطبات طاہر جلد 16 248 خطبہ جمعہ 4 اپریل 1997ء وہ لوگ جو دیانت داری سے صفائی کرتے ہیں، کوشش کرتے ہیں اور پھر اس حالت میں وہ جان دے دیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کا احسان اور رحمت ہے کہ وہ ان کو بھی اپنے بندوں میں شمار کر لیتا ہے۔پس مغفرت کی راہ آغاز میں بھی محفوظ ہے اور انجام میں بھی محفوظ ہے۔اگر مغفرت کے تقاضے آپ سب پورے کر لیں اور استغفار اس حد تک کریں کہ گناہ کلیۂ مٹ جائے تو یہ مغفرت کا جو اعلیٰ درجے کا تقاضا تھا وہ پورا ہو گیا اس کے اوپر پھر کوئی کامیابی نہیں ہے اور یہی وجہ ہے کہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺہ استغفار میں ہر دوسرے نبی سے ہی نہیں ہر دوسرے انسان سے بھی آگے بڑھ گئے اور جاہل دشمن کہتا ہے کہ اگر گناہ نہیں کئے تھے تو اتنا استغفار کیوں کر رہے تھے۔ان بیوقوفوں کو پتا نہیں کہ استغفار کا حقیقی معنی وہی ہے جو میں اب بیان کر رہا ہوں کہ ایسے گناہوں کا داغ، اس کا نشان مٹ جانا، اس کا تصور مٹ جانا کہ خدا کی آنکھ بھی دیکھے تو وہاں اس کو کچھ دکھائی نہ دے۔پس آنحضرت کا استغفار اس اعلیٰ شان کا استغفار تھا کہ گناہوں کی راہوں سے گزرے تو آپ بھی تھے ان گناہوں کی راہوں سے بچتے ہوئے گزرنا اور استغفار کے ذریعے ان کے خیالات کو مٹادینا یہ سفر تھا جو حضرت اقدس محمد مصطفی امیہ کا خدا جوئی کا سفر تھا اور ہمارے سفر لازماً اس کے تابع ہوں گے تو ہمارے لئے نجات کا کوئی امکان پیدا ہوگا تو ایک گنہگار کے لئے بھی اس میں ایک بڑی خوشخبری ہے۔الله آنحضرت ﷺ کے سفر کی جو نوعیت اور اس کا جو مرتبہ اور اس کا علو، اس کی بلندی یہ ساری چیزیں عام انسان کے تصور میں بھی نہیں آسکتیں۔مگر نقش پا جو پیچھے چھوڑ گئے ہیں ان کو دیکھتے ہوئے، ان کو چومتے ہوئے انسان آگے بڑھ سکتا ہے اور یہ ایک حقیقت ہے کہ استغفار کو زندگی کا لازمہ بنانا ہوگا اور استغفار کا معنی منہ سے بخشش مانگنا نہیں۔استغفار کا معنی ہے گناہوں کے داغ مٹا دینا، ان کو کلیپ چھپا دینا، اتنا کہ وہ کالعدم ہو جائیں۔اب یہ جو تجربہ ہے انسانی زندگی کا یہ نیک لوگوں کے تجربے کے علاوہ عام دنیا کے مسائل میں بھی اسی قسم کے تجربے ہوتے رہتے ہیں۔اس لئے ایک انسان نے اگر بار یک مسائل سمجھنے ہوں تو اس کے لئے کچھ بھی مشکل نہیں۔موٹے موٹے مسائل اسی سے ملتے جلتے ہیں ان پر نظر رکھے تو بار یک مسائل سمجھ آجاتے ہیں۔اس لئے قرآن کریم نے ایک قاتل کے متعلق جس نے کسی بڑے آدمی کو بنی اسرائیل میں قتل کیا تھا، اضْرِبُوهُ (البقرہ :74) کے لفظ استعمال کئے کہ اگر تم نے تلاش کرنا ہے تو اس سے ملتی جلتی مثالوں پر