خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 247
خطبات طاہر جلد 16 247 خطبہ جمعہ 4 را پریل 1997ء کے پتے تھے اور اس میں بھی اب دیکھیں کتنا باریک فرق ہے ریا کاری اور گناہ دبانے میں۔ریا کاری کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ پتوں کے پیچھے چھپ جائے ، اندر وہی کرتا رہے جو پہلے گناہ تھے اور دیکھنے والے کو پتے دکھائی دیں۔حقیقی استغفار کا مطلب یہ ہے کہ جب وہ پتے آ جاتے ہیں تو بدن کے داغ واقعہ مٹ جاتے ہیں اور انسان کے گناہ ان میں چھپ کر نظر سے غائب ہوتے ہیں۔اب نظر کس کی تھی جو دیکھ رہی تھی۔جب اس مضمون کو سمجھیں گے تو استغفار کے مضمون کو ریا کے مضمون سے بالکل الگ دیکھیں گے۔بائیل نے غلطی کی اور یہ سمجھا کہ وہ ظاہری طور پر خدا کی آنکھ سے چھپ رہا تھا۔ظاہری طور پر وہ چھپ سکتا ہی نہیں تھا۔ناممکن ہے کہ کسی درخت کی اوٹ میں، کسی گھاس پھوس کے پر دے میں جا کر کوئی انسان اللہ سے چھپ جائے۔تو وہ استغفار جو شجرہ طیبہ کے پتے تھے جن کے پیچھے وہ اپنے گناہ کو اس طرح ڈھانپ رہا تھا کہ خدا کو بھی وہ غائب ہوتا ہوا دکھائی دے، خدا بھی اس گناہ کو نہ دیکھے۔دیکھ سکنے کے باوجود اگر نہیں دیکھا تو وہ گناہ مٹ گیا ہے اور یہ کامل استغفار ہے کہ اس کو ڈھانچے مگر دنیا والوں کی نظر سے نہیں اللہ کی آنکھ سے ڈھانپ دے۔خدا بھی دیکھے تو اس میں اس گناہ کا کوئی نشان باقی نہ رہے۔یہ کامل استغفار کام ہے جس کے بعد نئی زندگی پیدا ہوتی ہے اور اسی استغفار کی تلاش در اصل مومن کا حقیقی جہاد ہے۔پھر جہاد کی راہوں کو بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بہت ہی باریکی سے کھول کھول کر بیان فرمایا اور یہ اس لئے کہ آج کے مسائل کا سب سے اہم مسئلہ ہے کہ ہمارا جہاد ہی گناہوں سے نکال کر بنی نوع انسان کو خدا تعالیٰ کے پاک بندوں میں شامل کرنا ، صراط مستقیم پر چلنے والوں میں ان کو داخل کرنا اور تقدس کا ایسا لباس عطا کرنا ہے جو پھٹتا نہیں ہے۔جو ہمیشہ ساتھ دیا کرتا ہے۔اتنا بڑا کام ہے اور ہم خود داغدار اور گنہگار ہیں۔اگر ہم اپنی صفائی کی طرف توجہ نہیں کریں گے تو ہمارا دعویٰ محض جھوٹ کا دعوی ہوگا۔یہ بات بھول جائیں کہ دشمن ہماری برائیاں دیکھ رہا ہے کہ نہیں، جانتا ہے کہ نہیں۔یہ سب بے معنی ، بے حقیقت باتیں ہیں۔ایک ہی آنکھ ہے جو خدا کی آنکھ ہے جو دیکھ رہی ہے تو جود یکھ رہی ہے وہی سچ ہے۔اس کی نظر میں اگر ہم داغدار ہی مر رہے ہیں ، اس کی نظر میں اگر ہم ایسے مر رہے ہیں کہ ہمارے جو بھی گند تھے ہم نے ان کی صفائی کی کوشش بھی نہیں کی تو یہ مرنے والے خدا کے بندوں کے طور پر نہیں مرا کرتے۔یہ مرنے والے شیطان کے بندوں کے طور پر مرتے ہیں۔