خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 241 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 241

خطبات طاہر جلد 16 241 خطبہ جمعہ 4 اپریل 1997ء توبہ استغفار کے ساتھ ممکن ہوتا ہے۔گناہوں کے داغ مٹادینا، کلیہ چھپا دینا کہ وہ کالعدم ہو جائے (خطبہ جمعہ 4 اپریل1997ء بمقام مسجد فضل لندن۔برطانیہ) تشهد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور انور نے درج ذیل آیات کریمہ تلاوت کی۔قَالَ رَبِّ بِمَا أَغْوَيْتَنِي لَا زَيْنَنَّ لَهُمْ فِي الْأَرْضِ وَلَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ إِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ قَالَ هَذَا صِرَاط عَلَى مُسْتَقِيمُ إِنَّ عِبَادِى لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَنَّ إِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْغَوِيْنَ وَإِنَّ جَهَنَّمَ لَمَوْعِدُهُمْ أَجْمَعِينَ پھر فرمایا: ( الحجر: 4440 ) یہ مضمون کچھ عرصے سے شروع ہے کہ جب تک انسان ایسی حالت میں جان نہ دے کہ وہ عباداللہ میں شامل ہو چکا ہو یا عِباد الرحمن میں شامل ہو چکا ہو اس وقت تک اس کی آئندہ زندگی کے اچھے ہونے کے متعلق کوئی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔اس کا برا ہونا بھی لازم نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ چاہے تو جس کو چاہے، جیسے چاہے بخش دے مگر وہ شخص جو مرتے وقت خدا کا بندہ نہ بن سکا اس کے متعلق یہ یقینا کہہ دینا کہ وہ آئندہ زندگی میں نیک اجر پائے گا یا ضرور بخشا جائے گا یہ محض وہم وگمان ہے اور عمومی قاعدے کے خلاف ہے۔تو سوال یہ ہے کہ کتنے ہیں جو اس دنیا میں جیتے جی خدا کے