خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 238 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 238

خطبات طاہر جلد 16 238 خطبہ جمعہ 28 / مارچ 1997ء تمام دنیا میں احمدیت کا مزاج ایک بن رہا ہے اور اس مزاج میں نہ رنگ ونسل کا کوئی اثر ہے نہ شخصیت کا کوئی فرق ہے، وہ ایک احمدی مزاج ہے جو تقویٰ کے گرد ڈھل رہا ہے اور وحدت کے گرد ڈھل رہا ہے اس میں یکسانیت پیدا ہو رہی ہے اس میں اجتماعیت پیدا ہو رہی ہے اور اس اجتماعیت کو پیدا کرنے کے لئے جو وقت کے نئے تقاضے پیدا ہوئے جو ہماری طاقت سے باہر تھے اللہ تعالیٰ نے اب MTA کے ذریعے وہ حل فرما دیئے اور آئندہ جب یہ ضرورتیں اور بڑھیں گی تو خدا اور نظام جاری فرمادے گا کیونکہ صرف یہی تو نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے علم اور قدرت میں ہے آئندہ زمانوں میں خدا تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ کس قسم کی ضرورتیں در پیش آئیں، کس طرح رو برو، آمنے سامنے ، جگہ جگہ مشوروں کی ضرورتیں پیش آئیں تو اللہ تعالیٰ کی قدرت نے جس نے یہ انعام ہمیں دیا ہے وہ انعام بھی عطا فرمائے گا اور جماعت احمدیہ کی آئندہ کی تمام ضرورتیں اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے پوری فرمائے گا۔جب اس یقین تک پہنچتے ہیں تو فَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ کا مضمون سمجھ آ جاتا ہے ، ساری کوششیں کرو مشورے کرو، فیصلہ تو نے کرنا ہے اور جب تو فیصلہ کرے گا تو چونکہ خدا کی خاطر کرے گا اس لئے فرمایا فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ اگر ان کی خاطر کرتا تو ان پر تو کل کرنا چاہئے کہ ان پر کیا تو کل ہوگا نرم بات کریں تو آگئے ذرا مزاج کی سختی ہوئی تو بھاگ گئے۔بعض تو چہرے پڑھ کے ایسی غلط غلط باتیں نکال لیتے ہیں کہ آدمی حیران رہ جاتا ہے۔ایک انسان بے چارہ اپنی سوچوں میں پڑا ہوا ہے، اپنی مصیبتوں میں مبتلا ہے، کوئی آئے ، دیکھے کہ یہ اس نے تو آج ہم سے بدسلوکی کا سلوک کیا آنکھ پھیر لی اور وہ اسی طرح واپس چلا جاتا ہے یہ اثر لے کر کہ اس نے ہمیں چھوڑ دیا ہے مگر اللہ تعالیٰ دلوں کو جانتا ہے اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ کوئی شخص کیوں کسی سے کیا سلوک فرمارہا ہے۔اس لئے عزم تو کرنا ہے لیکن تو کل ان پر نہیں کرنا ، یہ تو الگ سوچیں لے کے آنے والے لوگ ہیں تیرے فیصلوں سے بے وجہ نا خوش بھی ہو سکتے ہیں ان پہ کیا تو کل کرے گا تو۔تو نے خدا کی خاطر فیصلہ کیا ہے خدا پر توکل کر اور فرمایا: فَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِينَ یہاں آنحضرت ماہ کے توکل کی وجہ کو نمونہ بنا کر یہ بتایا ہے کہ یہ تو کل کرنے والا ، ایسا تو کل کرتا ہے کہ اللہ کے لئے اس سے محبت کے سوا کچھ اور چارہ ہی نہیں رہتا۔جو اللہ پر ایسا تو کل کرے کہ ہر دوسرے تقاضے کو بھلا دے اور توحید کامل کا نمونہ بن جائے ، موحد کامل ہو جائے اور توحید کامل کا زندہ