خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 239 of 1024

خطبات طاہر (جلد 16۔ 1997ء) — Page 239

خطبات طاہر جلد 16 239 خطبہ جمعہ 28 / مارچ 1997ء نمونہ بن جائے ، ایسا شخص جب خدا پر توکل کرتا ہے تو اس کے سوا ہو کیا سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے محبت کرے۔مگر یہ کہنے کی بجائے کہ تو تو کل کر اللہ تجھ سے محبت کرے گا فرمایا ہے اِنَّ اللهَ يُحِبُّ المُتَوَكَّلِينَ اس میں ہم سب کے لئے پیغام ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سے بھی وہی توقع رکھتا ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ سے توکل کے انداز سیکھ کر متوکل بن جائیں کیونکہ ایک متوکل خدا کو نہیں چاہئے اور صرف ایک سے محبت کا وعدہ نہیں فرمایا اللہ تعالیٰ کو کثرت سے تو کل کرنے والے چاہئیں اور وہ ہر ایک کو یہ خوش خبری دیتا ہے کہ تم متوکل بنو گے تو تم سے بھی خدا تعالیٰ محبت کرے گا۔تو دیکھو یہ مجلس شوری کا مضمون کہاں سے شروع ہو کر کہاں جا پہنچا ہے۔ابھی ایک ہی آیت ہے جو میں آپ کے سامنے بیان کر رہا ہوں اور خدا تعالیٰ نے اس میں دیکھیں کیسی وسعتیں پیدا فرمائی ہیں کیسی کیسی عظیم نصیحتیں ہمارے لئے رکھ دی ہیں۔پس مجلس شوریٰ میں آپ سب اکٹھے ہوئے ہیں اللہ تعالیٰ آپ کا اکٹھا ہونا مبارک فرمائے جن حالات میں پابندیوں کے ساتھ آپ مجلس شوری کے تقاضے پورے کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کی ان پر نظر ہے اور تو کل کا یہ مضمون بھی پیش نظر رکھیں کہ دعا کریں تو خدا تعالیٰ ان سب روکوں کو دور فرما دے گا اور وہ خدا جس نے دور بیٹھے ہمیں اکٹھا کر دیا ہے وہ اکٹھا کر کے بھی اکٹھا کر سکتا ہے کہ ان گنت انداز ہیں رحمت کے۔پس اس کی رحمت پر تو کل کریں اسی سے دعائیں مانگیں اور اسی کے لئے جھکیں۔اپنے اخلاق کی حفاظت کریں عارضی طور پر نہیں کسی خاص مقصد کے لئے نہیں بلکہ مستقلاً اپنے اخلاق کو آنحضرت ﷺ کے اخلاق کے تابع کر لیں پھر خدا پر توکل کر کے دیکھیں کہ کس طرح خدا تعالیٰ آپ کے توکل کے نتیجے میں کلیہ آپ کے بوجھ اٹھا لیتا ہے اور تو کل کا مضمون کلیۂ کے ساتھ وابستہ ہے۔تو کل کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے جو کچھ کرنا تھا کر لیا لیکن آخری انحصاراے میرے اللہ، اے میرے مولا تجھ پر ہے، بقیہ سب چیزیں کالعدم ہو گئیں ، ان کی ذات میں کچھ بھی نہیں ہیں ، ان میں ناقص سوچیں بھی ہیں، ناقص خیالات بھی ہیں، بے طاقتی کے اظہار ہیں، بے بسیوں کی کیفیتیں ہیں ، ان سب نے ملا کر ہمیں بنایا ہے تو ہم جو کچھ کرنا چاہتے ہیں یا کرتے ہیں ، وہ اس لئے کہ تو نے فرمایا ہے ورنہ انحصار ان پر نہیں۔اس کا نام تو کل ہے۔سب کچھ کرو، ساری محنتیں اٹھاؤ اس راہ میں